کراچی: مبینہ پولیس مقابلے میں اندھی گولی کا شکار ڈیڑھ سالہ احسن سپرد خاک

کراچی(تنویر منیر) پولیس کی اندھی گولی کا شکار ہونے والے ڈیڑھ سالہ احسن کو سپرد خاک کر دیا گیا، ننھے فرشتے کے قتل کا مقدمہ درج کر لیا گیا، چار اہلکار گرفتار کر لیے گئے۔ بچے کے والد نے ان کی مرضی کے خلاف درج ایف آئی آر ماننے سے انکار کر دیا۔

 

اندھی گولی ایک اور زندگی نگل گئی، کراچی میں ایک اور ماں کی گود اجڑ گئی، مبینہ پولیس مقابلے میں ڈیڑھ سالہ احسن جاں بحق ہو گیا۔ ڈیڑھ سالہ احسن کے قتل کا مقدمہ تو درج کیا گیا لیکن مقتول کے والد نے ایف آئی آر مسترد کر دی۔ بچے کے والد کے مطابق پولیس نے تھانے بلا کر کہا! مقدمے پر دستخط کر دیں، ہمیں نہیں معلوم ایف آئی آر میں کیا لکھا گیا، پیٹی بھائیوں کو بچایا جا رہا ہے۔

 

مقتول احسن کے والد کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے ہمارے بچے کی جان گئی، لیکن زیر حراست پولیس اہلکاروں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا، پولیس اپنے اہلکاروں کو بچانے کے لیے حقیقت چھپا رہی ہے۔ پولیس ایف آئی آر 4 نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کی گئی ہے، جس میں اقدام قتل اور قتل خطا کی دفعات شامل ہے۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں سچل تھانے کے 4 اہلکار گرفتار ہیں اور براہ راست فائرنگ پولیس کانسٹیبل امجد نے سرکاری چھوٹے ہتھیار سے کی۔

 

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچے کو دائیں جانب سے سینے میں گولی لگی جو بائیں جانب کمر سے پار ہو گئی۔ مقتول احسن کی والدہ کا کہنا تھا کہ ان کے سامنے پولیس والوں نے فائرنگ کی۔ ایڈیشنل آئی جی کراچی امیر شیخ کا کہنا ہے کہ ملزم امجد کے دیگر ساتھی صمد، خالد اور پیارو بھی گرفتار ہیں، جن کے پاس موجود اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا گیا ہے اور چاروں اہلکاروں کا عدالت سے ریمانڈ لیا جائے گا۔ ڈیڑھ سالہ احسن کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں