سانحہ ساہیوال: نشانہ بننے والی گاڑی کی تحقیقات سے متعلق مزید انکشافات

لاہور(مرزا رمضان بیگ) سانحہ ساہیوال میں دہشت گرد قرار دیئے جانے والے ذیشان جاوید کی گاڑی سے متعلق مزید انکشافات سامنے آگئے۔ سرکاری ریکارڈ کے گاڑی کبھی بھی فیصل آباد میں مارے جانے والے دہشت گرد عدیل کی ملکیت نہیں رہی۔ صوبائی وزیر قانون کا دعویٰ۔

 

سانحہ ساہیوال میں ذیشان جاوید کے زیر استعمال گاڑی سے متعلق صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے دعوی کیا کہ ذیشان جاوید کے زیر استعمال رہنے والی آلٹو گاڑی فیصل آباد میں مارے جانے والے دہشت گرد عدیل حفیظ کی ملیکیت ہے مگر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت کا یہ دعوی جھوٹا نکلا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ذیشان کے زیر استعمال رہنے والی گاڑی کبھی بھی فیصل آباد میں مارے جانے والے دہشت گرد کی ملکیت نہیں رہی۔

متعلقہ خبر: 'سانحہ ساہیوال میں نشانہ بننے والی گاڑی کافی عرصہ سے سی ٹی ڈی کے ریڈار پر تھی'

سرکاری ریکارڈ کے مطابق گاڑی 14مارچ 2012 کو لاہور کی رہائشی ثمینہ مقدر نے 7 لاکھ 27 ہزار میں خرید کر اپنے نام کروائی، تاہم 30 جولائی 2012 کو اوکاڑہ کے رہائشی شوکت علی نے گاڑی خرید کر اپنے نام کروا لی تھی۔ ساہیوال سانحہ میں استعمال ہونے والی گاڑی 7 جولائی 2017 کو لاہور کے رہائشی عظیم لیاقت نے خرید کر اپنی ملیکیت میں رجسٹرڈ کروائی اس کے بعد یہ گاڑی کسی کے نام ٹرانسفر نہیں کی گئی۔

متعلقہ خبر: ساہیوال مبینہ مقابلے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد سی ٹی ڈی کی نئی وضاحت

دوسری جانب سے سانحہ ساہیوال میں استعمال ہونے والی گاڑی کو معائینے کے لئے پنجاب فرانزک لیب منتقل کردیا گیا ہے۔ جبکہ جے آئی ٹی کے سربراہ نے بھی گاڑی سے متعلق تمام ریکارڈ فراہم کرنے کے لئے محکمہ ایکسائز سے ریکارڈ بھی مانگ لیا ہے۔

عطاء سبحانی  7 ماه پہلے

متعلقہ خبریں