موجودہ دور میں اندھے اعتماد کا تصور ختم ہو چکا ہے: جنرل زبیر محمود حیات

اسلام آباد(پبلک نیوز) چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا ہے کہ عالمی طاقتیں دیگر ممالک کو اپنا مرہون منت بنانے کیلئے معاشی پابندی لگاتی ہیں۔ گرے ہائبرڈ وار جنگ کی نئی قسم ہے۔ ہم مستقبل میں بھی کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔

 

انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک اسٹڈیز کے زیر اہتمام گرے ہایبرڈ وار پر سیمینار کا انعقاد۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرے ہائبرڈ وار جنگ کی نئی قسم ہے، یہ جنگ روائتی جنگ سے زیادہ مشکل ہے، اس جنگ میں معیشت کی تباہی سے لیکر دہشتگردوں کو مالی معاونت تک شامل ہیں۔ اس جنگ میں سائبر حملے بھی ہوتے ہیں اور پراکسی وارز کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔



جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ اس جنگ میں کامیابی کیلئے معاون سفارت کاری کی ضرورت ہے۔ موجودہ دور میں اندھے اعتماد کا تصور ختم ہو چکا ہے۔ عالمی طاقتیں دیگر ممالک کو اپنا مرہون منت بنانے کیلئے معاشی پابندی لگاتی ہیں۔ ایسے معاشی معاہدے کیے جاتے ہیں کہ اسٹریٹجک مفاد بھی حاصل ہوں۔ بین الاقوامی قوانین کو گرے ہائبرڈ وار میں ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

 

جنرل زبیر محمود حیات کا کہنا تھا کہ گزشہ عشرے میں یہ سارے ہتھیار استعمال ہوئے ہیں۔ جنوبی ایشیاء ایک اہم خطہ ہے۔ خطے کو اندرونی مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے۔ کشمیر، دریاوں کا پانی روکنے، بلا اشتعال جارحیت خطے کے مسائل ہیں۔ خطے کے ممالک ان مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ہمسایہ ممالک میں مداخلت اور سارک کو منجمند کرنے کی نئی روایت نے جنم لیا ہے۔ ہندواتا سوچ نے خطے کو نقصان پہنچایا ہے۔

 

جنرل زبیر محمود حیات نے کہا کہ اسی وجہ سے خطے میں سیکیورٹی مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ بھارت نے تحریک طالبان پاکستان، بلوچ دہشت گردوں کو معاونت دی۔ کراچی اور بلوچستان دہشت گردوں کو معاونت دی۔ کلبھوشن یادیو کے انکشافات ناقابل تردید ہیں۔ ہمسایہ مملک کی ایجنسیوں نے پاکستانی میں مداخلت کی۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ میری ٹائم سیکیورٹی کیلئے خطرات پیدا کیے۔

 

جنرل زبیر محمود حیات خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی بھارتی جارحیت کا سامنا کیا۔ ہم مستقبل میں بھی کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ پاکستان کسی بھی مس ایڈونچر کا منہ توڑ جواب دے گا۔ پاکستان نے دہشتگردی کو شکست دی ہے۔ ہم نے مالی اور جانی قربانیاں دی ہیں۔ سی پیک کے ذریعے پاکستان خطے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا علاقائی استحکام میں کردار کسی شبے سے بالاتر ہے۔ ہم چیلنجز کے باوجود کسی صورت بھی مایوس نہیں ہوں گے۔ ہم دنیا کے اہم ممالک کیساتھ بات چیت کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سارک کو بھی متحرک کیا جائے۔ ہم پرامن ملک اور پر امن دنیا کے حامی ہیں۔

عطاء سبحانی  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں