ڈرون گاڑی اور اُڑن ٹیکسی کا خواب حقیقت بن گیا

ویب ڈیسک: جرمنی ٹیکسی بنانے میں پہلا نمبر لے گیا۔ اڑن ٹیکسی کا کامیاب تجربہ بھی سب سے پہلے جرمنی میں کیا گیا۔ پانچ افراد کو لے کر اڑنے والے ہوائی کار جرمنی کی ایک کمپنی لیلیئم کی جانب سے تیار کی گئی جس کو سٹارٹ اپ کے طور پر تجربہ کے لیے پیش کیا گیا۔

کمپنی لیلیئم کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق اڑن ٹیکسی ورٹیکل ٹیک آف کر سکتی ہے اور لینڈنگ (وی ٹی او ایل) سسٹم ہے۔ جس کے مطلب ہے کہ اڑن ٹیکسی کو اڑان بھرنے کے لیے کسی رن وے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ بلکہ یہ ہیلی کاپٹر کی طرح بغیر رن وے پر دوڑے اڑان بھر سکتی ہے اور اسی طرح سے لینڈ بھی کر سکتی ہے۔

معلومات کے مطابق ٹیکسی کی رفتار 186 میل فی گھنٹہ کے حساب سے ہے جو 300 کلو میٹر فی گھنٹہ بنتی ہے۔ لیلیئم کپمنی کی جانب سے ایک طویل جدوجہد کی گئی جو تحقیق پر مشتمل تھی اور ساتھ ہی ساتھ بہت سے ٹیسٹ کے مراحل بھی طے کیے گئے۔

 

دستیاب معلومات میں سامنے آیا کہ یہ ہوائی کار 36 عدد برقی انجنوں پر مشتمل ہے۔ عمودی پرواز کے قابل یہ کار ابھی ایک بار چارج کیے جانے پر محض 80 کا فاصلہ ہی طے کرنے کی حامل قرار پائی ہے۔

 

 

برقی ایندھن پر چلنے والی اس ہوائی کار کی سپیڈ کے حوالے سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ کراچی سے حیدر آباد کا سفر یہ صرف آدھے گھنٹے میں طے کر سکتی ہے۔ رفتار کے علاوہ کمپنی نے اس کے ڈیزائن پر بھی بہت محنت کی ہے۔ یہ ہوائی کار ڈرون موڈ خود بھی اڑان بھر سکتی ہے جبکہ پائلٹ موڈ پر بھی اس کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔ اس کے ڈیزائن میں دم، رڈر اور گیئر باکس کو شامل نہیں کیا گیا۔

 

ہوائی کار میں پانچ افراد کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مسافروں کو آرام دہ سفر کی سہولت میسر کرنے کے لیے نشستیں بہت نفیس رکھی گئی ہیں جبکہ شیشوں کو بلبلہ نما بنایا گیا جن سے دوران پرواز باہر کا نظارہ کرنا بہت آسان ہو گا۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں جرمنی کے تمام بڑے شہروں میں اڑن ٹیکسی میسر ہو گی۔

image

دیگر بہت سے ممالک کی مختلف کمپنیاں بھی اس طرز کی برقی گاڑیاں تیار کر رہی ہیں۔ لہٰذا یہ بہت وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ڈرون گاڑیا اور اڑن ٹیکسیاں آئندہ چند برسوں میں دنیا کے ہر کون میں اڑتی ہوئی نظر آئیں گی۔

 

کمپنی کی ویب سائٹ پر جانے کے لیے یہاں کلک کیجئے۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں