چیئرمین سینیٹ معاملہ، حکومتی وفد مولانا فضل الرحمان کو منانے میں ناکام

 

اسلام آباد (پبلک نیوز) حکومتی وفد سے ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن لمبا سفر طے کرچکی ہے، کیسے ممکن ہوگا اس مرحلہ پر حکومتی وفد کی خواہش پوری کریں۔ ابھی آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا۔

 

حکومت نے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے خلاف متحدہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد واپس کروانے کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ حکومت کا 8 رکنی وفد مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پہنچا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کو بھی میدان میں آنا پڑا۔ جام کمال مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرنے ان کے گھر پہنچے۔

 

ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران انھیں منانے کی کوشش کی گئی اور تحریک عدم اعتماد واپس لینے کے لیے تعاون بھی مانگا گیا۔ سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز بھی ملاقات میں موجود تھے۔

 ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بھی جام کمال کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے اقدام سے شاید اچھے نتائج نہ نکلیں، سینیٹ کی ڈیڑھ سالہ مدت گزر چکی ہے، ڈیڑھ سال رہ گیا، ایسا قدم اٹھانا چاہیئے جس سے بہتری کی طرف جائیں۔

 

سینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے تیار ہیں، صرف ایوان کے وقار کو بچانے کے لیے مولانا کے پاس آئے ہیں۔

 

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن لمبا سفر طے کرچکی ہے، کیسے ممکن ہوگا اس مرحلہ پر حکومتی وفد کی خواہش پوری کریں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کا فیصلہ انہی کی صدارت میں اے پی سی میں ہوا۔ بولے آگے آگے دیکھئیے ہوتا ہے کیا۔

احمد علی کیف  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں