گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے لوکل گورنمنٹ بل 2019ء پر دستخط کر دیئے

لاہور(طاہرعمران) لوکل گورنمنٹ بل 2019ء پر دستخط کر دیئے گئے۔ پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام دو درجوں پر مشتمل ہے۔ شہروں میں میونسپل اور محلہ کونسل جبکہ دیہات میں تحصیل اور ویلج کونسل ہو گی۔ بلدیاتی اداروں کی مدت چار سال ہو گئی ہے۔

 

پنجاب اسمبلی سے کثرت رائے سے منظور ہونے والے لوکل گورنمنٹ بل 2019ء پر گور نر پنجاب چوہدری محمد سرور نے دستخط کر کے اسے قانون کا حصہ بنا کر صوبہ میں لاگو کر دیا۔ گورنر کی منظوری اور گزٹ نوٹیفیکشن ہوتے ہی بلدیاتی ادارے تحلیل ہو گئے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کی مدت چار سال ہو گئی ہے۔ نوجوانوں کی مخصوص نسشتیں ختم کر دی گئی ہیں۔

 

یہ بھی پڑھیں: مونس الہٰی کا پنجاب کے نئے بلدیاتی نظام پر تحفظات کا اظہار

 

انہوں نے مزید کہا کہ لوکل گورنمنٹ تحصیل کونسل، ویلیج کونسل، نیبر ہڈ کونسل، میونسپل کارپوریشن اور میٹروپولیٹن پر مشتمل ہو گا۔ پنجاب کے 9 ڈویژنل ہیڈ کوارٹر کو میٹروپولیٹن کا درجہ دیا جائے گا، میٹروپولیٹن اسمبلی کی تعداد زیادہ سے زیادہ تعداد 55 اور کم سے کم 8 ہو گی۔ بلدیاتی انتخابات میں میئر اور اسپیکر کے لئے تعلیم کی شرط ختم کر دی گئی ہے، اقلیتی علاقے میں اقلیتی نمائندہ ہی الیکشن لڑ سکے گا۔

 

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ ویلج کونسل اور نیبرہڈ کونسل کی اسمبلیوں میں فیصلہ شو آف ہینڈ کے ذریعے ہو گا، حکومت پنجاب بلدیاتی اداروں کا ایک سال کے اندر انتخاب کروائے گی، نئے انتخاب تک بلدیاتی اداروں میں ایڈمنسٹریٹر مقرر ہوں گے۔ حکومت پنجاب کے مطابق بلدیاتی اداروں کو چالیس ارب کا بجٹ دیا جائے گا۔ 22ہزار ویلیج کونسل قائم ہوں گی،138 تحصیل کونسل کے انتخاب ہوں گے۔

 

 

بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کی عمر کمُ سے کم 25سال مقرر کی گئی ہے، بلدیاتی اسمبلی کا سپیکر کنوئینر کہلائے گا۔ ایک طرف تو گورنر پنجاب نے لوکل گورئمنٹ بل 2019 پر دستخط کر کے اسے قانون کا حصہ بنا دیا جبکہ دوسری جانب لارڈ مئیر لاہور مبشر جاوید نے بل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔

عطاء سبحانی  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں