میرے فیصلوں پر عمل ہوتا تو پنجاب میں دوتہائی اکثریت ہوتی: گورنر پنجاب

لاہور(پبلک نیوز) گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا ہے کہ مجھے عہدوں سےکبھی پیارنہیں رہا،میرےبیرون ملک جانے پر گورنری جانے کی باتیں کی گئیں، میں استعفیٰ نہیں دے رہا۔ وزیراعلیٰ، سپیکریا وزیراعظم سےمیرے اختلافات کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ عراق جنگ کے خلاف ووٹ دے کر برطانیوی وزارت ٹھکرا دی۔

 

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار اور سیاست میں سے کسی ایک کو چننے کو موقع آیا، میں نے کاروبار کے بجائے سیاست کو چنا، عراق جنگ کے خلاف ووٹ دے کر برطانوی وزارت ٹھکرا دی، پوری دنیا میں میڈیا اپوزیشن کا کردار ادا کرتا ہے۔ گورنر بنا تو صاف پانی سمیت مختلف منصوبوں پر کام کیا، پاکستان میں تعلیم اور صحت کی بہتری کے لیے کام کیا۔

 

گورنر پنجاب کا کہنا تھا کہ اپنے عہدوں کو ہمشہ ملکی مفاد کے لیے استعمال کیا، ہمیشہ قانون کی پاسداری اور نفاذ کے لیے کوشاں رہا، میرے فیصلوں پر عمل ہوتا تو پنجاب میں بھی دوتہائی اکثریت ہوتی،چودھری سرور،2018ء میں تحریک انصاف کو حکومت ملی، مجھے عہدوں سے کبھی پیار نہیں رہا، پارٹی کے فیصلے پر سینیٹ چھوڑ کر گورنرشپ سنبھالی، پنجاب آب پاک اتھارٹی بل پر دستخط کر دیئے۔

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے کہا کہ پنجاب میں صوفیانہ سیاحت کو فروغ دیں گے، امریکا جانے کے 4 مقاصد تھے، پہلا مقصد امریکا میں پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کرنا تھی، پہلا موقع ہے امریکا ہمارے نقطہ نظر کو تسلیم کر رہا ہے، پہلی بار پاکستان نے سفارت محاذ پر بھارت کو شکست دی، امریکا میں سکھ کمیونٹی کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔


گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ وفاقی اور پنجاب حکومت کو کوئی خطرہ نہیں، عوام نے مینڈیٹ دیا ہے 5سال پورے کریں گے، عمران خان کی قیادت میں لوگوں کی توقعات پر پور اُتریں گے، وزیراعظم، اسپیکر اور وزیراعلیٰ سے اختلافات کی خبروں کی تر دید کرتا ہوں، آب اتھارٹی کی منظوری ثبوت ہے ہمارے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں