آزادی مارچ سے قبل حکومت، اپوزیشن کے رابطوں نے سیاسی ماحول کو گرما دیا

اسلام آباد(جمشید خان) جمعیت علماء اسلام کے زیراہتمام آزادی مارچ کا معاملہ، مارچ سے قبل اپوزیشن اور حکومت کے درمیان رابطوں اور مذاکراتی کمیٹیوں سے سیاسی درجہ حرارت میں تیزی آگئی۔ جے یو آئی کی مرکزی مجلس شوری آج سکھر میں طلب جبکہ کل اسلام آباد میں اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس بلا لیا گیا۔

 

آزادی مارچ سے قبل حکومت اپوزیشن کے رابطوں اور میٹنگز نے سیاسی ماحول کو گرما دیا، حکومت نے مشروط شرائط پر آزادی مارچ کی اجازت بھی دے دی۔ اپوزیشن کی رہبر کمیٹی کا اجلاس 25 اکتوبر کو اسلام آباد طلب کر لیا گیا، کنوینئیر رہبر کمیٹی اکرم خان درانی کی زیر صدارت اجلاس سہ پہر 4 بجے ہو گا۔ حکومتی مذاکراتی کمیٹی کا وفد پرویز خٹک کی قیادت میں پانچ بجے رہبر کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کرے گا، حکومتی اور اپوزیشن جماعتوں کے وفد کی مابین آزادی مارچ پر گفتگو ہو گی۔

 

گزشتہ روز حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے اکرم درانی سے رابطہ کیا تھا جبکہ گزشتہ روز ہی چوہدری پرویز الہی نے بھی مولانا فضل الرحمن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ حکومتی رابطہ کے بعد ہی اکرم خان درانی نے رہبر کمیٹی کا اہم اجلاس پچیس اکتوبر کو طلب کیا۔ ابتک حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے دو اجلاس ہو چکے ہیں۔ پرسوں پہلا اجلاس ایوان صدر جبکہ دوسرا اجلاس گزشتہ روز اسپیکر قومی اسمبلی کی ریائشگاہ پر ہوا۔

 

دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن اسلام آباد سے سکھر منتقل ہو گئے، جے یو آئی کی مرکزی شوری کا اجلاس آج سکھر میں ہو گا، اس سے قبل یہ اجلاس آج اسلام آباد میں ہونا تھا۔ حکومت نے جے یو آئی کے آزادی مارچ کے لیے مشروط اجازت تو دے دی لیکن اسلام انتظامیہ نے ڈی چوک کے گردو نواح اور شہر کے اہم مقامات پر کنٹیرز پہنچا دیئے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں