حکومت کا 50ممالک کو ویزا آن ارائیول، 175 کو ای ویزا کی سہولت دینے کا اعلان

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت میں 70سال بعد ایک نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے۔ پاکستان سیاحوں کیلئے جنت ہے۔ سیاحوں کو کنٹونمنٹ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے این او سی کی ضرورت نہیں ہو گی۔


وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماراملک ٹورازم کے لیے جنت ہے۔175 ملکوں کو ای ویزے کی سہولت دے رہے ہیں۔ 50ممالک کو ویزاآن ارائیول کی سہولت دے رہے ہیں۔ برٹش ،امریکن پاسپورٹ رکھنے والے بھارتی باشندوں کو ویزاآن ارائیول کی سہولت ہو گی۔ پاکستان میں نئی ویزا پالیسی متعارف کرا رہے ہیں۔ ایاٹا کے پاس رجسٹرڈ ٹوور آپریٹر دنیا بھر سے سیاح لاسکتے ہیں۔

 

1965تک پاکستان ایک بہترین ملک رہا۔ پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں 4 کیٹگریز ہیں۔ پاکستان میں نئی ویزہ پالیسی متعارف کرا دی گئی ہے۔ آیاٹا ٹور آپریٹرز سیاحوں کو پاکستان لا سکتے ہیں۔ بزنس ویزے کی سہولت 96ملکوں تک بڑھا دی گئی ہے۔ ڈپلومیٹک کارڈ کی مدت تین سال تک بڑھا دی گئی ہے۔ سیاحوں کو کنٹونمنٹ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے این او سی کی ضرورت نہیں ہو گی۔ صحافیوں کا ویزہ وزارت اطلاعات پراسیس کرے گی۔ نئی سیاحتی پالیسی سے پاکستان میں بہتری آئیگی۔ درآمدات کو کم اور برآمدات کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ نئے سیاحتی بل پر سیر حاصل گفتگو ہونی چاہیے۔

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ایوان آمد پر اپوزیشن کا رویہ درست نہیں تھا۔ ہماری کوشش ہے کہ نئے پاکستان کی معیشت ٹورازم کیلیے بنیاد بنے، وزیراعظم کی آمد پر طعنے اور فقرے کسےجاتے ہیں۔ ہمیں پارلیمنٹ کا بڑا احترام ہے، اپوزیشن کو بھی وزیر اعظم کا احترام کرنا ہو گا۔ جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں وہ ہمیں بتارہے ہیں کہ آپ کہاں سے آئے۔ کل ایوان میں شہباز شریف نے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہا۔ طالبعلموں کو مختلف مدت کے ویزے دیے جائیں گے۔

 

‏وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ‏میری تقریریں اٹھا کر دیکھ لیں کسی کو گالی نہیں دی گئی ہو گی۔ ‏وزیراعظم کے ایوان میں آنے پر اپوزیشن کا رویہ ایسا لگا جیسے کسی بازار میں آگئے۔ ‏سیاحت نئے پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ‏صحافیوں کو لانگ ٹرم اور شارٹ ٹرم ویزے جاری کریں گے۔ ‏ڈگری پروگرام کیلیے 2سال جبکہ ماسٹر پروگرام کیلیے 4سال کا ویزا دیں گے۔‏ آج ہم یورپ اورمشرق وسطیٰ پر کہاں کھڑے ہیں، کوئی5ماہ میں ایساکردار ادا نہیں کر سکتا تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کی عزت سب کا فرض ہے۔ ایوان کو مچھلی منڈی نہیں بننے دیں گے۔

 

وزیر اطلاعات نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی نے جب وزارت چھوڑی تو 157ارب روپے کا قرضہ چھوڑا۔ وزیراعظم کی بہتر پالیسیوں سے پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ابھار لیا ہے۔ مسئلہ افغانستان کے حل میں پاکستان بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے اپنے پہلے ہی خطاب میں انتخابات کی جانچ کیلئے کمیٹی کا اعلان کیا۔ شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانے پر کافی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو چلانا صرف حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن کی بھی ذمہ داری ہے۔ اگر اپوزیشن نے ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا تو ہماری طرف سے بھی تعاون کی امید نہ رکھیں۔ ماڈل ٹاؤن میں داغدار کردار والے آج ساہیوال واقعے پر بات کر رہے ہیں۔ ماڈل ٹاؤن میں باقاعدہ منصوبہ بندی سے قتل و غارت کی گئی۔ چوہدری نثار کی کلوز پاکستان پالیسی سے بہت نقصان ہوا۔ مراد علی شاہ خود ڈوب رہے ہیں، پاکستان اور سندھ کو کوئی خطرہ نہیں۔ پاکستان میں تمام بڑے میلوں کی بحالی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ پاکستان امریکا تعلقات کی بحالی کیلئے پیش رفت ہو رہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان صاف کردار کے مالک سیاستدان ہیں۔

عطاء سبحانی  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں