حکومت بدلی سال بدلا لیکن پولیس نہ بدلی، عوام میں پھیلا خوف و حراس

(پبلک نیوز) جعلی مقابلے آج کل کی بات نہیں، یہ کئی سالوں سے جاری ہیں، جنہوں نے عوام میں خوف و حراس پھیلا رکھا ہے۔ وردی پہنے ان قاتلوں کو کوئی پکڑنے والا نہیں۔ نقیب اللہ، انتظار، مقصود، امل اور بے شمار ایسے بے قصور لوگ ہیں، جن سے زندگی چھین لی گئی۔ آخر عوام کب تک اس سرکاری دہشت گردی کا نشانہ بنے گی؟

 

پاکستان میں جعلی پولیس مقابلے ایک رواج بن گئے ہیں، اور یہ رواج بنا خاندانی بادشاہت کی طرز رکھنے والی جمہوری حکومتوں میں، چاہے وہ بھٹو خاندان کی حکومت ہو یا شریف برادران کی۔ پولیس کے چھوٹے افسروں میں سے کئی چھوٹے تھانیداروں کے گروہ بنائے گئے، جنہیں مقابلوں کے عوض انعامات کے طور پر ترقیاں دی گئیں۔

 

نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پولیس مقابلے خود مشکوک ہوتے گئے۔ کراچی میں راؤ انوار نامی پولیس افسر ان مقابلوں کے باعث کافی بدنام رہا۔ سیاسی چھتری کے نیچے تیزی سے ترقی کی اور سیکڑوں لوگوں کو پولیس مقابلوں میں قتل کیا۔ ان میں سے کتنے گناہ گار تھے اور کتنے بے گناہ اس کا کوئی اندازہ نہیں، کیونکہ کوئی تفتیش ہوئی نہ کوئی عدالت لگی۔

 

گزشتہ سال راؤ انوار نے کراچی میں ایک مل میں کام کرنے والے مزدور نوجوان نقیب اللہ محسود کو اٹھایا اور جعلی مقابلے میں قتل کر دیا۔ میڈیا نے آواز اٹھائی تو راؤ انور بے نقاب ہوا۔ ابھی نقیب اللہ قتل کی بازگشت چل رہی تھی کہ ڈیفنس میں پولیس نے کار پر فائرنگ کر کے نوجوان انتظار کو موت کی نید سلا دیا۔

 

بیس جنوری کو ایک اور جعلی مقابلہ سامنے آیا جب شارع فیصل پر پولیس اہلکاروں نے شہری مقصود کو مار ڈالا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج منظر عام پر آئی تو افسروں کی دوڑیں لگیں، پھر تیرہ اگست 2018 کی رات آزادی کا جشن منانے کی تیاریاں جاری تھیں کہ کراچی ڈیفنس موڑ پر پولیس اور ملزموں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، یہاں بھی پولیس کی نااہلی ایک ننھی بچی کی جان لے گئی۔ ایک گولی سگنل پر کھڑی گاڑی میں والدین کے ساتھ بیٹھی ننھی امل کو لگی اور اس نے جان دے دی، لیکن کوئی ان سرکاری قاتلوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکا۔

 

حکومت بدلی سال بدلا لیکن پولیس نہ بدلی، نئے سال کے پہلے ماہ ہی ساہیوال کا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آ گیا۔ لگتا ہے پاکستان ایک شکار گاہ کی شکل اختیار کر گیا ہے، باہر سے آنے والے دہشتگرد بھی عوام کا شکار کرتے ہیں، گھر کے اندر انتظامیہ بھی عوام کا شکار کرتی ہے۔ آخر کب تک عوام اس سرکاری دہشتگردی کا نشانہ بنے گی؟ لیکن ایک بات طے ہے۔ سرکاری بندوقوں کا نشانہ بننے والوں کے لواحقین کی آہیں بددعائیں رائیگاں نہیں جائیں گی۔

عطاء سبحانی  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں