حکومت نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، ملکی عوام پر 750 ارب کے ٹٰیکس لگیں گے

اسلام آباد (پبلک نیوز) حکومت نے آئی ایم ایف کو اگلے بجٹ میں سات سو ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا ورکنگ پلان پیش کردیا۔ الیکٹرانکس اور فوم انڈسٹری کی مصنوعات کی پرچون قیمت پر سیلز ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو اگلے بجٹ میں 750 ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا ورکنگ پلان پیش کردیا۔ آئندہ مالی سال 2019-20 کے وفاقی بجٹ میں چینی پر جی ایس ٹی کی شرح بڑھانے، گیس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ الیکٹرانکس اور فوم انڈسٹری کی مصنوعات کی پرچون قیمت پر سیلز ٹیکس لاگو کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں چینی، گیس سمیت دیگر اشیاء کے مہنگے ہونے کا امکان ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق جی ایس ٹی کی معیاری شرح 17 سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا امکان ہے۔ سگریٹ اور مشروبات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ میں سگریٹ اور مشروبات مہنے ہونے کا امکان ہے۔ صنعتوں اور بجلی کی پیداوار میں استعمال میں ہونے والی ایل این جی کی درآمد پر تین فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ ختم کر کے پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ جس سے بجلی اور صنعتی اشیاءمزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔

 

آئندہ بجٹ میں مراعات یافتہ لوگوں، اداروں، امدادی اشیاء اور برآمدی اشیاء میں استعمال ہونے والے خام مال اور پلانٹس و مشینری کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی و ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ و رعایات برقرار رکھنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس سے ملکی درآمدات پر 60 کروڑ ڈالر سالانہ کا دباؤ ہوگا۔

 

واضح رہے کہ حتمی فیصلہ مشیر خزانہ کی منظوری کے بعد بجٹ میں کیا جائے گا اور حکومتی ٹیم نے آئی ایم ایف کو بتا دیا۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں الیکٹرانکس، پرنٹ اور فوم انڈسٹری کے لیے ریٹیل پرائس ٹیکس سسٹم متعارف کروایا جائے گا۔ جس کے تحت ان انڈسٹری کی تیار کردہ مصنوعات کی پرچون قیمت پر سیلز ٹیکس لاگو کرکے وصول کیا جائےگا اور ان انڈسٹری کی مصنوعات پر پرچون قیمت اور سیلز ٹیکس کی رقم پرنٹ ہوگی۔

 

متعدد ایگزمشنز کے ساتھ یونیفائڈ ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) متعارف کروانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں قدرتی گیس پر گیس انفرا سٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس کی جگہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ اس اقدام سے ایف بی آر کو فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 60 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔ بجٹ میں سگریٹ اور مشروبات پرعائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح بڑھانےسے 37 ارب روپے سے زائد کا ریونیو حاصل ہوسکے گا۔

 

پیک شُدہ جوسز پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔ جس سے پانچ ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔ بجٹ میں انکم ٹیکس کے حوالے سے بھی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ غیر منقولہ جایئیداد اور سیکورٹیز پر کیپیٹل گین ٹیکس کے لیے ہولڈنگ پیریڈ بڑھایا جارہا ہے۔ اس سے انکم ٹیکس کی مد میں20 ارب روپے کا اضافی ریونیو ملے گا۔ بجٹ میں بینکوں اور انشورنس کمپنیوں کی آمدنی پر عالمی معیار کے مطابق ٹیکس کا طریقہ متعارف کروایا جائے گا۔

 

بجٹ میں ایل این جی کی درآمد پر تین فیصد کسٹمز ڈیوٹی کی چھوٹ ختم کرکے پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کی جارہی ہے۔ درآمدی ایل این جی بجلی کی پیداوار کے لیے فرنس آئل کی جگہ متبادل فیول کے طور پر استعمال ہوتی ہے اور فرنس آئل کی درآمد پر سات فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہے۔ جب سے صنعتوں میں اور پاور پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لیے ایل این جی کی درآمد ہوئی ہے اس وقت سے درآمدی سطع پر ریونیو کی مد میں بھاری نقصان ہورہا ہے۔ اب اس اقدام سے 24 ارب روپے کا اضافی ریونیو حاصل ہوسکے گا۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں