کٹاس راج کے مندر، ہندو دیوتا شیو کی محبت کی لازوال نشانی

چوآ سیدن شاہ(پبلک نیوز) ضلع چکوال کی تحصیل چوآ سیدن شاہ سے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع کٹاس راج مندر آثار قدیمہ کے بیش قیمت اثاثہ ہیں، ہندوعقیدے کے مطابق یہاں واقع کٹاس راج تالاب ہندو دیوتا شیوکی محبت کی لازوال نشانی ہے جو انہوں نے اپنی بیوی ستی کے انتقال پر بہائے گئے آنسوؤں سے معرض وجود میں آیا۔

 

تاریخ کے جھروکوں میں ہمیں محبت کی انمٹ اور لازوال داستانیں پڑھنے سننے کو ملتی ہیں، یوں تو محبت کی کئی انمٹ داستانیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں، مگر ہندو عقیدے کے مطابق ہندو دیومالائی داستانوں کے ہیرو اور ہندو مذہیب کے ماہان دیوتا لارڈ شیوا کے اپنی بیوی ستی کے انتقال پر بہائے گئے آنسووں سے معرض وجود میں آنے والا تالاب آج بھی ضلع چکوال کی تحصیل چوآ سیدن شاہ سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شری کٹاس راج کے پر اسرار مندروں کے عین وسط میں ہے۔

جہاں محبت کی لازوال نشانی کے طور پر دنیا بھر کے سیاحوں کو دعوت نظارہ دے رہا ہے، وہاں ہی چکوال کی تاریخی حیثیت کا ثبوت بھی فراہم کر رہا ہے۔ ہندو مذہیب کی مقدس کتاب مہا بھارت جو حضرت عیسی کی پیدائش سے تین سو سال قبل لکھی گئی اس کتاب میں بھی اس جگہ کا ذکر شری کٹاس راج کے تالاب اور مندروں کو دنیا کی اولین تہزیبوں میں لا کھڑا کرتا ہے۔

دنیا بھر سے ہر سال ہزاروں سیاح بلند و بالا پہاڑوں میں گھری اس پُراسرار بستی کا رخ کرتے ہیں اور یہاں موجود مندروں کے طرز تعمیر اور فطرتی حسن کا سحر ان کو اپنی گرفت میں لیکر صدیوں پیچھے دھکیل دیتا ہے۔ ست گڑھا کے مندر لارڈ شیوا کا مندر، ہنو مان مندر، رام چندر مندر، سکھوں کا تاریخی مقام ہری سنگھ کی حویلی، مہاتما بدھ کے پیروکاروں کی عبادت گاہ سٹوپا خاموش زبان میں بیتی صدیوں کے گواہ ہیں۔ شری کٹاس راج کے مندر تعمیر کرنے والے ماضی کی کوکھ میں صدیوں سے محو خواب ہیں مگر ان کی تخلیق ہزاروں سال گزرنے کے باوجود فطرتی حسن اور تاریخی حیثیت کی بدولت ہندو مذہب کی نشانی کے طور پر جاویداں ہو چکی ہے۔

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں