جشن آزادی پر پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن قومی ترانہ کی عظمت

لاہور (پبلک نیوز) قومی ترانہ کسی ملک اور قوم کی اساس و نظریات کی پہلی علامت ہوتا ہے۔ قومی ترانے کا ایک ایک لفظ وطن کی حرمت اور ازادی کا ترجمان سمجھاجاتا ہے۔ جش ازادی پر زندہ قومیں اپنا قومی ترانہ گنگنانا اعزاز سمجھتی ہیں۔

 

قیام پاکستان کے بعد پہلا قومی ترانہ قائد اعظم کے حکم پر پاکستانی ہندو جگن ناتھ نے لکھا، جو چھ سال تک ھندو کا لکھا قومی ترانہ، اے سر زمین پاک، زرے تیرے ہیں کہکشاں آج ستاروں سے تابناک، یہ ترانہ سرکاری تقریبات کے موقع پر پڑھا جاتا رہا تھا۔ چھ سل بعد قومی ترانہ کمیٹی جس کے رکن حفیظ جالندھری خود بھی تھے۔ فیصلہ کے بعد قومی ترانہ تبدیل کر دیا گیا۔ سات سو سے زائد ترانے مقابلے میں شامل کئے گئے۔ حفیظ جالندھری کے پاک سر زمین شاد باد، ترانے کو قومی ترانہ قرار دیا گیا۔

پاک سر زمین شاد باد، قومی ترانے کی دھن پہلی بار شاہ ایران کی آمد کے موقع پر بجائی گئی، اس کی دھن احمد چھانگلہ نے تیار کی۔ اس وقت سے آج تک اور رہتی دنیا تک پاک سرزمین شاد باد پاکستانیوں کے دل کی دھڑکن رہے گا۔

عطاء سبحانی  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں