وقت کے آمروں کو للکارنے والی توانا آواز حبیب جالب کو یاد کرنے کا دن

لاہور (پبلک نیوز) وقت کے آمروں کو للکارنے والی توانا آواز کو یاد کرنے کا دن، شاعر عوام کی انقلابی شاعری آج بھی تازہ ومعطر ہے۔ منفرد لب و لہجے کے مالک حبیب جالب کو ہم سے بچھڑے 26 برس بیت گئے۔

 

حبیب جالب 24 مارچ 1929 کو میانی افغاناں میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہوئے اور روزنامہ امروز میں ملازمت اختیار کی۔ ان کی شاعری  سیاسی جبر اور آمریت کے  خلاف  بڑی آواز بن کر ابھری جس میں ان کی انداز نے اہم کردار ادا کیا۔ 1962 میں انہوں نے صدر ایوب خان کے آئین کے خلاف اپنی مشہور نظم "دستور" تحریر کی جو  زبان زد عام ہوئی۔

 

حبیب جالب سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔ قومی ترانے کے خالق حفیظ جالندھری کے مشیر بننے کو حبیب جالب نے یوں بیان کیا، ہم نے ان سے یہ کہا، اپنے انقلابی خیالات کی بدولت وہ ہر عہد میں حکومت کے معتوب اور عوام کے محبوب رہے۔

 

ان کے شعری مجموعوں میں برگ آوارہ، سرمقتل، عہد ستم، حرف حق، ذکر بہتے خون کا، عہد سزا، اس شہر خرابی میں، گنبد بے در، گوشے میں قفس کے، حرف سر دار اور چاروں جانب سناٹا شامل ہیں۔

 

حبیب جالب نے کئی معروف فلموں کے لیے نغمہ نگاری بھی کی۔ حبیب جالب  12 مارچ 1993ء کو لاہور میں خالق حقیقی سے جا ملے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے 2008 میں انہیں بعد ازمرگ نشان امتیاز عطا کیا گیا۔ حبیب جالب خود تو منوں مٹی تلے جا سوئے لیکن ان کا کلام آج بھی ظلم وجبر کا مقابلہ کرتا نظر آتا ہے۔

 

ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔ

دیر تک ان کا انتظار رہا

 

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں