موجودہ دور حکومت میں 7 لاکھ ٹیکس فائلر اور ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ

 

اسلام آباد (پبلک نیوز) مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ گذشتہ سال کے مقابلے رواں سال برآمدات میں اضافہ ہوا۔ زراعت کےشعبے میں ترقی ہماری بنیادی ترجیح ہے۔ 10 ارب سے بڑا پراجیکٹ ایکنک میں لایا جائے گا۔ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔

 

تفصیلات کے مطابق شہر اقتدار میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ معاشی ٹیم اقتصادی صورتحال بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت سنبھالی تو ملکی معاشی صورتحال زبوں حالی کا شکار تھی۔ بجٹ میں کمزور طبقوں کے لیے 100 فیصد مراعات دی گئیں۔ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے گئے۔ اقتدار سنبھالا تو درآمدات اور برآمدات میں بہت فرق تھا۔ درآمدات اور کرنٹ خسارے میں کمی کی گئی۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی۔ پاکستان میں 19 لاکھ لوگ ٹیکس فائلر تھے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد 7 لاکھ ٹیکس فائلر کا اضافہ ہوا۔ حکومتی اقدامات سے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا۔ آئی ایم ایف اور ایشین بینک کے ساتھ پروگرام کیے۔ گذشتہ سال کے مقابلے رواں سال برآمدات میں اضافہ ہوا۔

 

عبدالحفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ کوشش ہے کاروبار کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور ہوں۔ زراعت کےشعبے میں ترقی ہماری بنیادی ترجیح ہے۔ پچھلے 5 سالوں میں زراعت کے شعبے میں کوئی گروتھ نہیں ہوئی۔ رواں سال زراعت کے شعبے میں 3.5 فیصد ترقی کا امکان ہے۔ پہلی مرتبہ عسکری اخراجات کو منجمد کیا گیا۔

 

مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کا مزید کہنا تھا کہ 10 ارب سے بڑا پراجیکٹ ایکنک میں لایا جائے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو دیا۔ ٹیکس دہندگان کی تعداد میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔

احمد علی کیف  2 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں