میری گرفتاری سے مزدور کا پیٹ نہیں بھرے گا: حمزہ شہباز

لاہور (پبلک نیوز) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ کل کی غلطیاں ہمیں مجبور کرتی ہیں کہ ان کو ٹھیک کریں۔ ملک اور جمہوریت نے پروان چڑھنا ہے تو ہمیں غلطیوں سے سیکھنا ہے۔ میں کسی پر الزام نہیں لگا رہا چور چور کے نعرے دونوں جانب سے لگتے ہیں۔

اسمبلی کے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پروڈکشن آرڈر جارئ ہونے پر اسپیکر پنجاب کا شکریہ کا ادا کرتا ہوں۔ پروڈکشن آرڈر کا کریڈٹ اسمبلی کو جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس ملک میں لوگ پھنساسیاں چڑھے، جلاوطن ہوئے، وزیر اعظم کو گولی لگی ، بے نظیر شہید ہوئی۔ میں گزارشات کرتا ہوں پانچ ہزار ارب کا قرضہ ہے اور اس میں سے دو ہزار ارب روپے کی کمی پر لگ گیا۔ سب سے زیادہ ڈرپوک پیسہ ہوتا ہے جب اس کو پرسکون ماحول نہیں ملتا تو غائب ہوجاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری سرمایہ کاری باون فیصد کم ہوئی ہے روپے کی قدر نیپال اور بنگلہ دیش سے کم ہے۔ آج نواز شریف، آصف زرداری اندر ہیں۔ شہباز شریف واپس آگئے میں نیب کے پاس ہوں پچاسی ارب کی بات کرتے تھے۔ دس سال کا تھا جب مجھ پر کیسز بنائے گئے تھے۔ ایک جرنیل نے مجھے کہا کہ تمھارے خاندان پر کوئی کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔

حمزہ شہباز نے کا کہ میری گرفتاری کے بعد آج بھی اگر کرپشن ثابت ہوئی تو سیاست چھوڑ دوں گا۔ میٹرو بس اور سی پیک میں کرپشن کا الزام لگایا گیا مگر کچھ نہیں نکلا۔ ہم نے اگر ماضی سے سبق نہ سیکھا تو تباہ ہوجائیں گے۔ آج تعلیم کے بجٹ پر 20 فی صد کٹ لگایا گیا ہے۔ مہنگائی میں جتنا اضافہ ہوچکا ہے میں ایک خوف محسوس کررہا ہوں۔

اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ ٹیکسٹائل سیکٹر سے تمام سبسڈیز واپس لے لی گئی ہیں۔ انڈسٹریلسٹ مارا مارا پھر رہا ہے۔ نیب کے سیل میں خود سے پوچھتا ہوں کہ حمزہ شہباز شریف تیسری بار گرفتار ہو گیا مگر مالم جبہ کے پی ہیلی کاپٹر اور پشاور میٹرو کا دور دور تک نام نہیں۔ مالم جبہ اور پشاور میٹرو پر بھی کمیشن بننا چاہیے۔

پنجاب اسمبلی میں انھوں نے کہا کہ میری گرفتاری سے مزدور کا پیٹ نہیں بھرے گا۔ غریب کے گھر میں بیٹا بھوک سے بلکتا ہے تو وہ ہر چیز کو آگ لگانے کا سوچتا ہے۔ ملکی معیشت کا بیڑا پار نہ کیا گیا تو آنے والی نسلیں معاف نہیں کریں گی۔

احمد علی کیف  5 روز پہلے

متعلقہ خبریں