وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے بجٹ 20-2019 پر بحث سمیٹ دی

 

لاہور (پبلک نیوز) وزیر خزانہ پنجاب ہاشم جواں بخت نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی حکومت نے پانچ سال میں ایک بھی ایسا کام نہیں کیا جس سے روپے کی قدر میں اضافہ ہو سکے۔ محدود وسائل میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کو کم کر سکتے ہیں۔ روپے کی قدر بڑھانے کےلئے درآمدات کو کم کرنا پڑے گا اور برآمدات بڑھانا ہوں گی۔

 

پنجاب اسمبلی میں بجٹ 20-2019 پر بحث کے دوران ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر کوباآسانی کاروبار کرنے کےلئے رولز بنائے۔ موجودہ حکومت ہر ضلع میں انڈسٹریل اسٹیٹ بنائے گی اور ایگریکلچر کو بڑھانے کےلئے پالیسیاں مرتب کیں۔ وزیر اعلی انٹریٹمنٹ فنڈز میں کمی کی جائے گی اور سکیورٹئ فنڈز میں کمی کی جائے گی۔

 

صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ صحت کا بجٹ 2017-18کے مقابلے میں 2019کا بجٹ زیادہ رکھاگیاہے۔ تعلیم کے شعبے میں گیارہ فیصد بجٹ بڑھایا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کےلئے پینتیس فیصد بجٹ رکھاگیاہےاور یہ بجٹ کسی اور منصوبے پر خرچ نہیں ہو گا۔ اربوں روپے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں ہماری ترجیحات تعلیم، صحت ، کسان، زراعت اور محروم لوگوں کے لیے مختص ہوں گی۔

 

اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہٰی نے کہا کہ سالانہ بجٹ گوشوارہ 2019-20 کے مطالبات زر، رائے شماری اور ووٹنگ ہو گی۔ صوبائی وزیر خزانہ نے بجٹ منظوری کے لیے مطالبات زر پیش کیا جس پر اپوزیشن نے کٹوتی کی تحاریک پیش کیں۔

احمد علی کیف  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں