سپریم کورٹ:بنی گالہ غیرقانونی تجاوزات کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی

اسلام آباد(پبلک نیوز) سپریم کورٹ میں بنی گالہ غیر قانونی تجاوزات کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہٹائے جانے پر برہمی کا اظہار کیا، کہا جو انصاف کے لیے کھڑا ہو حکومت اسے عہدے سے ہٹا دیتی ہے، چیف جسٹس نے کہا تفصیلات سے آگاہ کیا جائے، کس کس نے ریگولر کرنے کے لیے اپلائی کیا۔

 

سپریم کورٹ میں بنی گالہ غیر قانونی تجاوزات کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ عمران خان کا گھر ریگولر ہونے کی کیا اپ ڈیٹ ہے؟ اور کیا انہوں نے گھر ریگولر کرانے کے لیے درخواست دی ہے؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کیا صرف وزیراعظم کی وجہ سے گھر ریگولر کرنے میں تاخیر ہو رہی ہے؟

 

کس کس نے زمین ریگولر کرنے کے لیے اپلائی کیا؟ کس کس نے ریگولرائزیشن فیس جمع کرائی ہے،؟چیف جسٹس نے استفسار کیا، زون 4 کی کیا صورتحال ہے؟ چیئرمین سی ڈی اے نے بتاہا زون 4 کو چار حصوں میں تقسیم کیا۔ چیف جسٹس نے کہا ہاؤسنگ سوسائٹی کس حصے میں آتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا ریگولرائزیشن کے بغیر ہاؤسنگ سوسائٹی کی اجازت نہیں دیں گے۔

 

سی ڈی اے چیئرمین نے عدالت کو بتایا کہ مجموعی طور پر 100 سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ نیر رضوی سچی بات کرنے والے ایڈیشنل اٹارنی جنرل تھے، حکومت نے شاید سچ بولنے پر ہی انہیں عہدے سے ہٹایا، جو انصاف کے لیے کھڑا ہو حکومت اسے عہدے سے ہٹا دیتی ہے۔

 

چیف جسٹس نے کہا بوٹینکل گارڈن کی اراضی ایک ہفتے میں واگزار کرائیں ،اتنی بڑی زمینوں پر قبضہ مافیا بدمعاشی سے بیٹھا ہے،میاں ثاقب نثار نے کہا وزیر اعظم جو پالیسی بنائے اسے ماسٹر پلان سے مشروط کر دیں، جبکہ کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں