نجی میڈیکل کالجز میں اضافی فیس وصولی کے خلاف دائر کیس کی سماعت

لاہور(پبلک نیوز) سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں نجی میڈیکل کالجزمیں اضافی فیس وصولی کیس کی سماعت، چیف جسٹس ثاقب نثارنے ریمارکس دیئے میڈیکل کالجز کو عطیات وصول کرنے کی اجازت نہیں۔ کالجز میں داخلوں کےلئے بیک ڈورراستے بند کرنا ہوں گے۔ داخلوں کی بندربانٹ روکنے کے لیے قانون سازی سے گریز نہیں کریں گے۔

 

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نجی میڈیکل کالجز کے طلبہ سے اضافی فیسوں کی وصولی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی۔ ڈائریکٹر ایف ائی اے نے عدالت کو بتایا کہ اضافی فیسوں کی مد میں وصول 745ملین روپے طلبہ کو واپس کر دیئے گئے ہیں۔ ایک سو کالجز کے 23 ہزار طلبہ کا ڈیٹا حاصل کیا ہے، نجی میڈیکل کالجزنےعطیات، فارن کوٹہ اور اضافی فیسوں کی مد میں طلبہ سے پیسے بٹورے۔

 

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ نجی میڈیکل کالجوں کو کسی صورت عطیات وصول کرنے کی اجازت نہیں مرکزی داخلہ پالیسی کا معیار طے کیا جائے گا۔ داخلوں کے لیے بندر بانٹ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ داخلوں کی بندربانٹ روکنے کے لیے قانون سازی سے گریز نہیں کریں گے۔

 

پی ایم ڈی سی جو بھی معیار قائم کرے گی اسے ہر صورت نافذ کیا جائے گا، کوتاہی کے مرتکب نجی میڈیکل کالجوں کو بھاری جرمانے ادا کرنا پڑیں گے۔ چیف جسٹس نے واضع کیا کہ  پی ایم ڈی سی، فریقین آج ہی سفارشات عدالت میں پیش کریںش۔ ازخودنوٹس، قانون سازی یہ جو کچھ کرنا پڑایہ معاملہ منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

عطاء سبحانی  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں