سورج کا قہر، ہوائیں بند، کراچی والوں کا جینا محال

کراچی (پبلک نیوز) عمارتوں کے شہر کراچی میں ہیٹ ویو2015 میں لوگوں پر قہربنی، 2 ہزار سے زائد ہلاکتوں نے شہر قائد میں دہشت پھیلائی، شہری انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کے بروقت اقدامات سے 2016 اور2017 میں ہیٹ ویو قابو میں رہی، 2018 میں ہیٹ ویو سے 70 سے زائد اموات ہوئیں۔ محکمہ موسمیات نے رواں برس مئی میں ہیٹ ویو اور درجہ حرات بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔

 

کراچی جو کبھی پرفضاء اور سازگار آب وہوا کے حوالے سے مشہور تھا، آج عمارتوں کا شہر اور کنکریٹ کا جنگل بن چکا ہے۔ کراچی کے بدلتے موسم نے سال 2015 میں ہیٹ ویو اور ہیٹ اسٹروک جیسے حملے کیے، شہر قائد گرمی کی بدترین لپیٹ میں رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہیٹ ویو نے 2 ہزار سے زائد لوگوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔

 

سندھ کے مختلف شہروں اور کراچی سمیت گرمی کی شدید لہر برقرار رہی، سال 2015 میں کراچی کے درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا جس نے مختلف اسپتالوں میں ایمرجنسی کی صورتحال قائم رکھی۔

 

سال 2016 اور17 میں صوبائی حکومت اور محکمہ موسمیات کے بروقت اقدامات سے کراچی شہر ہیٹ ویو اور ہیٹ اسٹروکس سے محفوظ رہا، 2016 میں ہیٹ ویو سے 4 اور 2017 میں 6 ہلاکتوں کے واقعات رپورٹ ہوئے۔

 

سال 2018 میں کراچی کے شہریوں کو ایک بار پھر گرم ترین درجہ حرارت اور ہیٹ ویو کا سامنا رہا، درجہ حرارت 44 ڈگری سینٹی گریڈ رپورٹ ہوا جبکہ ہیٹ ویو کے حملوں نے 70 سے زائد لوگوں کو موت کی وادی میں پہنچایا۔

 

رواں برس بھی محکمہ موسمیات نے کراچی میں مئی کے پہلے ہفتے میں ہیٹ ویو کے آنے کی پیش گوئی کی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری تک جاسکتاہے۔ سمندری ہوائیں بند جبکہ شمال اور شمال مغربی علاقوں سے گرم اور خشک ہوائیں چلیں گی۔

 

شہریوں کو ہیٹ ویو کے خطرے کے پیش نظر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات دی گئیں ہیں۔

حارث افضل  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں