بلوچستان میں برفباری کا 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، 16 افراد جان

پبلک نیوز: بلوچستان کے مختلف اضلاع میں برفباری کا 20 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، بلوچستان بھر میں 16 افراد جان سے گئے، چمن میں 6 افراد مکان زمین بوس ہونے سے جاں بحق ہوئے، برفباری کے باعث رابطہ سڑکیں بند، پروازیں منسوخ ہو گئیں۔

 

بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 2 روز سے جاری برف باری اور بارشوں نے تباہی مچا دی۔ مختلف حادثات میں 16 افراد جاں بحق ہو گئے۔ پاکستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی رپورٹ کے مطابق مختلف حادثات میں قلعہ عبداللہ میں 6، ژوب میں 6 جبکہ پشین میں 3 افراد جاں بحق ہوئے۔

 

بلوچستان کے بالائی علاقوں میں 3 سے 4 فٹ تک برف پڑ چکی ہے، شدید برف باری سے زیارت، مستونگ، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، ہرنائی اور بولان میں کئی جگہ رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں۔

 

کوئٹہ میں برف باری اور موسم کی خراب صورت حال کے باعث اندرون ملک سے کوئٹہ آنے اور جانے والی تمام پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ برف باری کے باعث 10 فیڈر بند ہونے سے شہر کے بیشترعلاقوں میں بجلی بھی غائب ہے۔ شدید برف باری کے باعث صوبائی حکومت نے 7 اضلاع میں اسنو ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

 

خیبرپختونخوا میں بھی شدید برفباری کے باعث سڑکیں بند ہو گئیں، لواری ٹنل پر ٹریفک کا نظام معطل ہے، چترال میں بھی شدید برفباری کے باعث سڑکیں بند ہیں، کیلاش، دروش، گرم چشمہ روڈ، چترال بونی روڈ بھی شدید برفباری کے باعث بند ہیں۔ برفباری تھمنے کے بعد ہی برف ہٹانے کا کام شروع کیا جائے گا۔

 

دوسری جانب مری، مالم جبہ، کالام ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بھی شدید برفباری جاری ہے۔

احمد علی کیف  8 ماه پہلے

متعلقہ خبریں