بجٹ پر بحث کم اور ماضی کی الزام تراشیوں پر زیادہ ہوتی ہے: حنا ربانی کھر

اسلام آباد(پبلک نیوز) سابق وزیر خارجہ اور رکن قومی اسمبلی حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ ایوان میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو بولنے نہیں دیا جاتا، کہا تھا مختصر کابینہ ہو گی، 55 رکنی کابینہ بنا دی، یہاں پر دیکھا ایک وزیر نے کسی کو تھپڑ مار دیا۔

 

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی و سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ اسمبلی کا ماحول دیکھ کر یہاں آنے کا دل نہیں کرتا۔ بجٹ پر بحث کم اور ماضی کی الزام تراشیوں پر زیادہ ہوتی ہے۔ یہاں پر دیکھا ایک وزیر نے کسی کو تھپڑ مار دیا۔ کہا گیا انصاف نہیں ملا تھپڑ مارا۔ وزیر اعظم نے کہا گریبان سے پکڑ کر گھسیٹو، جب وزراء اور وزیراعظم ایسا کریں گے عام آدمی کا کیا حال ہو گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ احتساب کے نام پر مذاق ہو رہا ہے۔ یہاں کا ایوان میں وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو بولنے نہیں دیا جاتا۔ بار بار کہا جا رہاہے ملکی معیشت آئی سی یو میں ہے۔ بار بار آئی ایم ایف کا بجٹ کے الفاظ دہرانے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ مختصر کابینہ رکھیں گے، 55 رکنی کابینہ بنا دی۔ گزشتہ سال وزیراعظم ہاؤس کا خرچہ 98 کروڑ آیا، اب ایک ارب 9 کروڑ خرچ کر دیئے۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں