پاکستان میں جعلی بنک اکاؤنٹس اور کالے دھن کو سفید کرنے کے تاریخی واقعات

ادریس شیخ

جعلی بنک اکاؤنٹس کے کالے دھن کو سفید کرنا، ہر ملزم کی اولین اور محفوظ ترین ترجیح سمجھی جاتی ہے، جعلی بنک اکاؤنٹس اور کالے دھن کو سفید کرنے کی تاریخ کافی پرانی ہے۔

شریف خاندان پر جعلی بنک اکاؤنٹس کے ذریعے کالے دھن کو سفید کرنے کے الزامات کافی پرانے ہیں۔ حالیہ منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز پر منی لانڈرنگ کے ذریعے تین ارب روپے سے زائد رقم بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام ہے۔ ایسا ہی کچھ 1992 میں ہوا، جب کاشف مسعود قاضی، سلمان ضیاء اور محمد رمضان کے جعلی بنک اکاؤنٹس کھولے گئے اور لاکھوں ڈالرز بیرون ملک منتقل کیے گئے۔

اکاؤنٹ ہولڈرز کو مجموعی طور پر 15 لاکھ ڈالرز کے بیئرر سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔ پھر یہ تمام رقم کاشف مسعود قاضی کے جعلی اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی۔ نزہت گوہر قاضی کے بنک آف امریکہ لاہور کے جعلی اکاؤنٹ سے 5 لاکھ ڈالرز کاشف مسعود کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے۔ جعلی اکاؤنٹس کی وجہ سے حدیبیہ انجنیئرنگ کو 60 ملین کا قرضہ بھی دیا گیا۔

10 نومبر 1994 کو کمشنر انکم ٹیکس نے جعلی اکاؤنٹس کے خلاف ایف آئی اے کو مراسلہ لکھا۔ ایف ائی اے کے سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے 10 نومبر 1994 کو ہی مقدمات درج کیے۔ میاں شہباز شریف، حسین نواز اور حمزہ شہباز کو نامزد کیا گیا، عباس شریف، جاوید کیانی، عبدالحمید بٹ، مختار حسین اور شیخ سعید سمیت حدیبیہ انجنیئرنگ کے ڈائریکٹرز کو بھی نامزد کیا گیا۔

موجودہ کیس میں بھی شہبازشریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز پر اپنے فرنٹ مین کے ذریعے کمیشن وصول کرکے بیرون ملک کرنے کے تحت انکوائری شروع کی گئی ہے۔

نیب تفتیش کے مطابق شہباز شریف کی رہائش گاہ کی تعمیر میں بھی منی لانڈرنگ کی رقم استعمال کی گئی۔ نیب کو بیرون ملک مقیم ایسے افراد کا ریکارڈ فراہم کیا گیا جن کے پاکستان سے پاسپورٹ ہی جاری نہیں کیے گئے تھے۔

احمد علی کیف  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں