پاکستان کی وزارت عظمیٰ: لیاقت علی خان سے عمران خان تک

پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے 15 اگست1947 کو عہدہ سنبھالا۔ ان کی شہادت کے بعد آج تک ایک بھی وزیراعظم بد قسمتی سے اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر پایا۔ کون کون وزارت عظمی کی کرسی پر اب تک بیٹھ چکا ہے۔

لیاقت علی خان کوگورنر جنرل آف پاکستان  قائداعظم محمد علی جناح کی جانب سے1947 میں پاکستان کا پہلا وزیراعظم مقرر کیا گیا۔ انھیں 1951 میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کے دوران قتل کیا گیا اوران کی جگہ خواجہ ناظم الدین نے لی۔ لیاقت علی خان نے وزارت عظمیٰ کا قلمدان 15 اگست1947 کو سنبھالا جبکہ 16 اکتوبر1951  کو انہیں قتل کر دیا گیا۔ ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ سے تھا۔

1951ء میں لیاقت علی خان کے قتل کے بعد خواجہ ناظم الدین پاکستان کے وزیر اعظم بنے۔ انہیں اس عہدہ سے اس وقت الگ ہونا پڑا جب گورنر جنرل ملک غلام محمد نے 1953ء میں ان کی حکومت تحلیل کر دی۔ ان کا تعلق بھی پاکستان مسلم لیگ سے تھا۔

پاکستانی سیاست میں نسبتاً کم پہچان رکھنے والے محمد علی بوگرہ نے 17اپریل 1953 کو بطور وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی جگہ لی۔ اس وقت کے گورنر جنرل اسکندر مرزا نے 1955ء میں ان کی حکومت ختم کر دی۔ ان کا تعلق بھی پاکستان مسلم لیگ سے تھا۔

محمد علی بوگرہ کے بعد چوہدری محمد علی نے12 اگست 1955ء میں ان کی خالی کرسی سنبھالی۔ ان کے دور میں ملک کا پہلا آئین بنا۔ انہوں نے 12 ستمبر 1956ء میں صدر سے اختلافات کے باعث استعفیٰ دیا۔ ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ سے تھا۔

حسین شہید سہروردی ایک سال سے کچھ زیادہ عرصہ تک عہدے پر فائز رہے پھر انہوں نے بھی اسکندر مرزا سے اختلافات کی بنیاد پر 17 اکتوبر 1957 کو اقتدار سےعلیحدگی اختیار کی۔ سہروردی نے وزارت عظمی کا قلمدان 12 ستمبر1956 کو سنبھالا تھا۔ ان کا تعلق آل پاکستان عوامی مسلم لیگ سے تھا۔

حسین شہید سہروردی کے بعد سکندر مرزا نے ابراہیم اسماعیل چندریگر کو منتخب کیا۔ وہ اس عہدہ پر دو ماہ رہے۔ انہوں نے دسمبر 1957 میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ سے تھا۔

16دسمبر 1957 کو فیروز خان نون نے پاکستان کے ساتویں وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا۔ انھیں 7 اکتوبر 1958ء کو فوجی بغاوت  کے نتیجہ میں اقتدار چھوڑنا پڑا۔ ان کو تعلق ریپبلیکن پارٹی سے تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کے آئین کی منظوری کے بعد وزیراعظم بننے کے لیے صدارت سے استعفی دیا۔ جس کے تحت ملک کو وفاقی پارلیمانی جمہوریہ قرار دیا گیا تھا۔ انہیں 1977ء میں جنرل محمد ضیاءالحق کی سرکردگی میں ہونے والی فوجی بغاوت کے باعث ہٹا دیا گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔

محمد خان جونیجو 24 مارچ 1985 میں پاکستان کے بنا پارٹی انتخابات کے ذریعہ اس عہدے پر پہنچے۔ انہیں آٹھویں ترمیم کا کلہاڑا چلا کر گھر بھیجا گیا۔ ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ سے تھا۔

بینظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون تھیں جو ایک بڑی جماعت کی سربراہ بھی تھیں۔ 2 دسمبر1988 میں وہ مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیر اعظم بنیں۔ بینظیر بھٹو کی حکومت کرپشن کے الزامات میں 6 اگست 1990 کو ختم کر دی گئی۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔

آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے میاں محمد نواز شریف یکم نومبر 1990ء کو پاکستان کے 12 ویں وزیراعظم منتخب ہوئے۔ صدر غلام اسحٰق خان نے آٹھویں ترمیم کے تحت ان کی حکومت ختم کی جسے بعد میں عدالت عظمٰی پاکستان نے کالعدم قرار دے کر انہیں بحال کیا۔ نواز شریف نے جولائی 1993ء میں کاکڑ فارمولہ کے تحت استعفیٰ دیا جس کے باعث صدر کو بھی عہدا چھوڑنا پڑا۔

بینظیر بھٹو دوسری دفعہ 1993ء میں وزارت عظمی عہدے پر آئیں۔ ان ہی کی جماعت سے تعلق رکھنے والے صدر فاروق لغاری نے5 نومبر 1996ء میں انہیں عہدے سے برخاست کیا۔

نواز شریف فروری 1997ء میں بھاری اکثریت سے دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔ انہیں 12 اکتوبر1999ء میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی فوجی بغاوت میں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

ظفر اللہ خان جمالی بطور وزیر اعظم پرویز مشرف کی خارجہ اور اقتصادی پالیسی پر چلتے رہے لیکن وہ اس عہدہ پر زیادہ دیر نہ رہ سکے اور 26 جون 2004ء میں مستعفی ہوئے۔ ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ق سے تھا۔

30جون 2004ء میں ظفر اللہ خان جمالی کے استعفیٰ کے بعد چودھری شجاعت حسین مسند وزیراعظم پر بیٹھے۔ 20 اگست2004 تک وہ اس عہدے پر براجمان رہے۔ ان کا تعلق پاکستان مسلم لیگ ق سے تھا۔

شوکت عزیز نے 2004ء میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے جنہوں نے قومی اسمبلی کی میعاد پوری ہونے پر۔ 16 نومبر2007 کو یہ عہدہ چھوڑا۔ ان کا تعلق بھی پاکستان مسلم لیگ ق سے تھا۔

یوسف رضا گیلانی مارچ 2008ء میں وزیراعظم منتخب  ہوئے۔ انہیں توہین عدالت کے مقدمہ میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 19 جون 2012 کوعہدے سے ہٹا دیا۔ ان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔

راجہ پرویز اشرف نے یوسف رضا گیلانی کے ہٹائے جانے کے بعد یہ عہدہ 22 جون 2012 کو سنبھالا۔ 25 مارچ 2013 تک انہوں نے قومی اسمبلی کی مدت پورے ہونے تک بطور وزریراعظم کام کیا۔ ان کا تعلق بھی پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔

5جون 2013ء کو میاں محمد نواز شریف ریکارڈ تیسری دفعہ وزیراعظم بنے۔ انہوں نے اس وقت کے صدر آصف علی زردار ی سے حلف لیا اور 28 جولائی 2017 کو سپریم کورٹ میں پانامہ کرپشن کیس میں نااہل قرار پائے۔

29جولائی 2017 کو شاہد خاقان عباسی کو مسلم لیگ ن کی جانب سے وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا گیا۔ جس کے بعد انہوں نے بھی قومی اسمبلی کی آئینی مدت پوری ہونے تک فرائض انجام دئیے۔

1947سے لے کر2018 کے عام انتخابات تک تقریباً 21 بار وزارت عظمیٰ کا حلف لیا تھا۔ جس میں سے کسی بھی وزیراعظم نے عہدے کی آئینی مدت پوری  نہیں کی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اگلا وزیراعظم آئینی مدت پوری کر سکے گا یا نہیں۔

احمد علی کیف  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں