ریونیو میں بڑھتی ہوئی کمی کو کیسے پورا کیا جائے؟

لاہور (پبلک نیوز) ریونیو میں بڑھتی ہوئی کمی کو کیسے پورا کیا جائے؟ حکومت کے معاشی ارسطوﺅں نے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ پٹرولیم اور موبائل فون پر ٹیکس سے عام آدمی کے بل کس نکال کی تیاریاں شروع کر دی۔

تفصیلات کے مطابق تبدیلی سرکار کو محصولات وصولیوں کی مد میں سو ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق یوٹرن کو مثبت گرداننے والی پی ٹی آئی حکومت آئی ایم ایف کا در کھٹکھٹانے والی ہے تاکہ معاشی مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔ آئی ایم ایف چار پیسے تھمائے گا تو چار سو شرائط بھی عائد کرے گا برق گرے گی تو بیچارے کم مراعات یافتہ طبقے پر اس کا اثر ہو گا۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کو گزشتہ پانچ ماہ کے دوران  محصولات کی مد میں 100 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔ 80 ارب روپے کی کمی توصرف حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں کمی سے 35 جبکہ موبائل فون پر ودہولڈنگ ٹیکس کی معطلی سے ماہانہ چار ارب روپے کی کمی ہورہی ہے۔ سر پر منڈالتے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے حکومت کی معاشی ٹیم نے منی بجٹ کا نسخہ تیار کیا ہے۔

منی بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس میں اضافے کا امکان ہے جبکہ موبائل فون کمپنیوں پر مذید ٹیکس لگانے کی تجویز بھی زیر غورہے۔ ذرائع کے مطابق سگریٹس پر ٹیکس میں مذید اضافے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔ تنخواہ دار طبقے کو حاصل مراعات میں 50 فیصد کمی کا بھی امکان ہے۔

حارث افضل  9 ماه پہلے

متعلقہ خبریں