سال 2019ء پاکستان مسلم لیگ (ن) کیلئے سیاسی طور پر کیسا رہا؟

لاہور(مستنصر عباس) سال 2019ء بھی پاکستان مسلم لیگ (ن) کیلئے سیاسی طور پر سخت تکلیف دہ رہا، شریف خاندان نیب کے شکنجے میں رہا، سابق وزیراعظم محمد نواز شریف شدید بیماری کے باعث ضمانت پر رہا ہوئے اور اپنے بھائی شہباز شریف کے ہمراہ علاج کیلئے لندن چلے گئے۔

 

مریم نواز، رانا ثناء اللہ، مفتاح اسمعاعیل اور میاں نعمان کو ضمانت ملی، جبکہ شاہد خاقان عباسی حمزہ شہباز، احسن اقبال اور خواجہ برادران دوران حراست نئے سال کی صبح کے سورج کا استقبال کریں گے، مسلم لیگ ن نے سال رواں میں کیا کھویا؟ کیا پایا؟ سال 2017ء میں پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد (ن) لیگ کی حکومت پر شدید سیاسی طوفان سے دوچار ہوئی، جس کے باعث نہ صرف سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کیساتھ جیل گئے بلکہ 2018ءکے انتخابات میں دوبارہ حکومت بھی نہ بناسکے۔۔لیگی رہنما نیب کے شکنجے میں آتے رہے اور روان سال کے جاتے جاتے احسن اقبال بھی نیب کے مہمان بن گئے۔ لیگی قیادت اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کرکوئی بڑی جدوجہد نہ کرسکی۔ نواز شریف اور رانا ثناء اللہ کے داماد بھی جیل کی ہوا کھانے والوں میں شامل ہیں۔

 

سال رواں میں شریف خاندان کیلئے یہ بات قابل اطمینان رہی کہ نواز شریف علاج کیلئے بیرون ملک روانہ ہوئے جس کیلئے انہیں طبی بنیادوں پرضمانت ملی اور ای سی ایل سے نام خارج ہوا، مریم نواز بھی ضمانت پر رہا ہوئیں تاہم کوشش کے باوجود تاحال بیرون ملک نہ جاسکیں۔ سال 2019ء اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے۔ مقدمات اور پارٹی قیادت کے بیرون ملک ہونے کے باعث پارلیمانی اعتبارسے (ن) لیگ، حکومت مخالف کسی بڑی جدوجہد کا آغاز نہ کر سکی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز، احسن اقبال، یوسف عزیز اور خواجہ برادران نئے سال کا سورج جیل میں دیکھیں گے، یہ سوال بھی اہم ہے کہ نئے سال میں کیا ن لیگ کی قیادت وطن واپس آئے گی یا لندن سے ہی پارٹی آپریٹ ہو گی؟

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں