آئی جی اسلام آباد تبادلہ از خود نوٹس، جے آئی ٹی کو 10 ٹی او آرز دے دیئے گئے

اسلام آباد (پبلک نیوز) کیا سینیٹر اعظم سواتی اختیارات کے غلط استعمال کے بعد رکن پارلیمنٹ رہ سکتے ہیں؟ سینیٹر اعظم سواتی کے اثاثے کتنے ہیں؟ کیا انہوں نے زمین قانونی طریقے سے حاصل کی؟ سپریم کورٹ نے اعظم سواتی کے اختیارات کے استعمال سے متعلق تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کو 10 ٹی او آرز دے دیئے۔

جے آئی ٹی کو دو ہفتے میں رپورٹ مکمل کرنے کی ہدایت کر دی، سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آباد تبادلے کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق آئی جی اسلام آباد تبادلہ از خود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے دو نومبر کی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا ہے۔ تین صحفات پر مشتمل حکم نامے میں عدالت نے  جے آئی ٹی کو تحقیقات کے لئے دس ٹی او آر دے دیئے۔

عدالت نے جے آئی ٹی کوحکم دیا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جائیں، کیا سینیٹر اعظم سواتی رکن پارلیمنٹ بننے کے اہل ہیں؟ جے آئی ٹی بطور وزیر اور پارلیمینیٹرین اختیارت کے استعمال کا جائزہ لے گی۔ جے آئی ٹی ان حالات و واقعات کی بھی تحقیقات کرے جن کے تحت آئی جی کا تبادلہ کیا گیا، کیا آئی جی اسلام آباد کے تبادلے میں اعظم سواتی کا کردار تھا؟ کیا اعظم سواتی نے عام شہری سے ہٹ کر بطور خاص پولیس سے ٹریٹمنٹ حاصل کی؟

عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس بات کی بھی تحقیقات کی جائئں کہ سینیٹر اعظم سواتی نے گھر کے گرد سرکاری اراضی پر تجاوز کیا ہے؟ سینیٹر اعظم سواتی  کے پاس زمین قانونی طریقہ سے حاصل کردہ ہے؟ کیا سینیٹر اعظم سواتی کے اثاثے ڈکلیئر ہیں؟

عدالت نے جے آئی ٹی کے سربراہ  ڈی نی نیب راولپنڈی عرفان نعیم کی سربراہی میں تین رکن ٹیم کو دو ہفتوں میں رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جے آئی ٹی میں آئی بی کے سینئر افسر احمد رضوان اور ایف آئی اے سے میر واعظ نیاز شامل ہیں۔

عدالتی حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سینیٹر اعظم سواتی اور متاثرہ خاندان کے درمیان صلح ہو چکی ہے۔ متاثرہ خاندان کے خلاف مقدمہ تاحال زیر التواء ہے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بظاہر سینیٹر اعظم سواتی نے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے متاثرین خاندان کو گرفتار کر لیا۔ جو شخص پارلیمنٹ کا ممبر ہے اسے نیک پارسہ اور سچا ہونا چاہیے۔

احمد علی کیف  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں