نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں منگل تک ضمانت منظور

اسلام آباد(پبلک نیوز) نواز شریف کی العزیزیہ ریفرنس میں ضمانت منظور، اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی 20 -20 لاکھ روپے کےعوض منگل تک عبوری ضمانت منظور کرلی۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔

 

چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ نے نواز شریف کی طبی بنیادوں پر سزا معطلی کیلئے شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس عامر فاروق چھٹی پر ہونے کے باعث بینچ کا حصہ نہیں تھے، کیس کی سماعت 3 بار وقفوں کے ساتھ ہوئی، عدالت نے منگل تک عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے 20 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا۔

 

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو نواز شریف کی نواز شریف کی صحت سے نئی رپورٹ پیش کی گئی، جس پر عدالت نے وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب، چیئرمین نیب کو نوٹس جاری کیا، عدالت نے قرار دیا کہ حکومت نے مخالفت کی تو نواز شریف کی ضمانت مسترد کر دیں گے، پنجاب حکومت اور وفاق کے نمائندوں نے جواب دینے سے گریز کیا اور ہدایات لینے کا موقف اپنایا تو عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دی۔

دوسری بار سماعت میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ڈیل کی خبروں پر طلب کیے گئے۔ اینکرز پرسنز کو روسٹرم پر بلایا، اس دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا ڈیل کی باتیں کی گئیں، اس سے عدلیہ پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے، کیس بعد میں آتا ہے میڈیا ٹرائل پہلے ہو جاتا ہے، سوشل میڈیا پر ججز کا ٹرائل کیا جاتا ہے۔ کیا ججز اپنے حلف کے پابند نہیں رہے، ججز کسی کے قابل رسائی نہیں، کیا ادارے ڈیل کا حصہ ہیں؟ منتخب وزیراعظم کو بدنام کیا جا رہا ہے، حساس اداروں کو بھی نہیں بخشا جا رہا۔ کیس کی سماعت کے دوران بنچ کے دوسرے رکن جسٹس محسن اختر کیانی نے چیئرمین پیمرا کی جانب سے عدالت میں پیش نہ ہونے پر سختی برہمی کا اظہار کیا۔

 

تیسری بار سماعت شروع ہوئی تو عدالت نے درخواست ضمانت کی مخالفت کی صورت میں صورتحال کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد کی، چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ نے پنجاب حکومت کے نمائندے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ کہتے تو درخواست خارج کر دیتے ہیں، آپ مخالفت کرتے ہیں تو ذمہ داری آپ کی ہو گی۔ درخواست ضمانت پر عدالت میں ہاں یا ناں کا جواب دیں، جواباَ سیکرٹری داخلہ پنجاب کا کہنا تھا کہ طبی بنیاد پر دائر درخواست کی ذمہ داری ہم نہیں لے سکتے، آپ میرٹ پر فیصلہ کریں، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت کے ساتھ سیاست نا کھیلی جائے۔

 

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قانون میں یہ ذمہ داری حکومت کی ہے، اگر کل کو علاج کرانے کے لیے باہر جانا پڑتا ہے تو کون ای سی ایل سے نام نکالے گا، جسٹس محسن اختر کیانی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کی ذمہ داری حکومت کی ہے، رول 143 واضح ہے کہ حکومت کو ایسے معاملات میں قیدی کو رہا کرنے کا اختیار ہے، فیصلے میں قیدیوں سے متعلق عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق حکومت سے جواب طلب کر لیا گیا۔

عطاء سبحانی  3 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں