نومسلم لڑکیوں کے تحفظ کا کیس، 5رکنی تحقیقاتی کمیشن تشکیل

اسلام آباد (پبلک نیوز) گھوٹکی کی نومسلم بہنوں کے تحفظ کے کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ آئندہ سماعت پر کمیشن اور انکوائری رپورٹ بھی طلب کر لی گئی ہے۔ لڑکیوں کی عمروں کے تعین کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی منظور کر لی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق گھوٹکی میں دونوں بہنیں خود مسلمان ہوئیں یا زبردستی مذہب تبدیل کرایا گیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے تحقیقات کے لیے پانچ رکنی کمیشن تشکیل دے دیا۔ چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے سیکرٹری داخلہ کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کیا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اسلام تو اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ ہمارا دنیا میں کیا تاثر جا رہا ہے۔ ریاست کو شرمندہ نہ کرائیں۔ استفسار کیا گھوٹکی میں ہی کیوں یہ معاملہ بار بار سامنے آ رہا ہے؟ انھوں نے رکن اسمبلی ڈاکٹر رمیش کمار کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ آپ حکمران جماعت سے ہیں پارلیمٹ میں معاملہ اٹھائیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پانچ رکنی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے دیا۔ لڑکیوں کی عمروں کے تعین کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی استدعا بھی منظور کر لی۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں