اسلام آباد ہائیکورٹ نے نو مسلم لڑکیوں کو شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی

اسلام آباد (پبلک نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ گھوٹکی کے دو نو مسلم بہنوں کو اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی، چیف جسٹس نے کہا ہے کہ دائرہ کار نہ ہونے کے باوجود معاملے کی حساسیت کے پیش نظر سماعت کی۔ 

 

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی۔ جوڈیشل کمیشن کے ارکان عدالت کے روبرو پیش ہوئے، نو مسلم لڑکیوں کو ایک بار پھر عدالت میں پیش نہیں کیا گیا، سیکرٹری داخلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوئے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کیس میں کیا پیش رفت ہوئی، سیکرٹری داخلہ نے عدالت کو بتایا کہ بظاہر یہ زبردستی مذہب تبدیلی کا کیس نہیں لگتا، میڈیکل بورڈ کی رپورٹ بھی آچکی ہے، بورڈ کی رپورٹ کے مطابق  آسیہ انیس سال اور نادیہ اٹھارہ سال عمر ہے۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کمیشن کے ارکان بڑی عزت کے حامل ہیں۔ ان پر یقین ہے۔ انہوں نے ریمارکس دئیے کہ سندھ اسلام آباد ہائیکورٹ کا دائرہ کار نہیں پھر بھی کیس کی حساسیت کی وجہ سے اس کی سماعت کی۔ آئی اے رحمان نے عدالت کو بتایا کہ جن سینٹرز پر لڑکیاں مسلمان ہوئی ان کو ریگولیر کیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ زبردستی مذہب تبدیلی تھی۔ لڑکیوں کے بیان کے بعد اس کیس کی حساسیت کی وجہ سے کیس کو آگے بڑھایا۔ آئی اے رحمان نے بتایا کہ قانونی طور پر یہ تمام معاملات ریگولرائز ہونی چاہئے۔

 

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کوئی آبزرویشن نہیں دے گی کہ جس سے ماتحت عدالت کا کیس متاثر ہو۔ اقلیتوں کے حقوق کو نہ صرف تحفظ حاصل ہونا چاہئے بلکہ نظر بھی آنا چاہئے۔ لڑکیوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ اپنے شوہروں کے ساتھ رہیں۔ عدالت نے لڑکیوں کو اپنے شوہروں کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ جس کیے بعد سماعت 14 مئی تک ملتوی کردی گئی۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں