اسلام آباد ہائیکورٹ نے گھوٹکی کی نو مسلم لڑکیوں کو سرکاری تحویل میں دے دیا

اسلام آباد (پبلک نیوز) گھوٹکی سے 2 بہنوں کے مبینہ اغوا اور نکاح کا کیس، اسلام آباد ہائیکورٹ کا مسلم لڑکیوں کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم، ڈپٹی کمشنر کے حوالے کردیا۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے دوران سماعت ریمارکس دیئے پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

 

ضلع گھوٹکی میں ہندو مذہب چھوڑ کر مسلمان ہونے والی مسلم لڑکیاں آسیہ اور نادیہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس جسٹس اطہر اللہ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ یہ انتہائی احساس معاملہ ہے جس کے ساتھ پاکستان کی عزت جڑی ہے۔ عدالت اقلیتوں سمیت ہر شہری کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرے گی۔

 

چیف جسٹس کا ریمارکس میں مزید کہنا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فتح مکہ اور خطبہ حجتہ الوداع پر دو خطاب موجود ہیں۔ جو ہمارے لیے قانون و آئین کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وزیراعظم  بھی انکوائری کا حکم دے چکے ہیں۔ وزیر انسانی حقوق بھی معاملے کو دیکھ رہی، تحقیقات کب تک مکمل ہوگی؟ حکومتی نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ ایک ہفتے میں انکوائری مکمل کرلیں گے۔

 

لڑکیوں نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں  بتایا کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا، انہیں کسی نے ڈرایا دھمکایا نہیں۔

 

تفیشی افسر صاحب دینو کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے بھائی اور باپ کی مدعیت میں 365 بی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ لڑکیوں  کے شوہروں صفدر اور برکت علی نے عدالت میں حفاظتی ضمانت کے لیے درخواست بھی دائر کردی۔

 

صفدر کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے لڑکی کی خواہش پر ان سے شادی کی۔ عدالت نے مسلم لڑکیوں کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دے دیا اور دونوں لڑکیوں کو ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات اور ڈی جی ہیومین رائٹس کے سپرد کردیا۔

 

عدالت نے حکم دیا کہ ایس پی رینک کی خاتون پولیس افسر کو ان کے ساتھ ڈیوٹی پر مامور کریں، وفاقی حکومت سے انکوائری رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی گئی۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں