اسلام آباد: سرکاری ہسپتالوں میں 90 ڈاکٹرز کی غیر قانونی پریکٹس کا انکشاف

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی دارلحکومت کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے 90 ڈاکٹرز کی غیر قانونی پریکٹس کا انکشاف ہوا ہے۔ چاروں ہسپتالوں کے ڈاکٹرز پی ایم ڈی سی  رجسٹریشنز کی تجدید کے بغیر پریکٹس کرنے میں ملوث ہیں۔

 

اسلام آباد کے بڑے سرکاری ہسپتالوں کے 90 ڈاکٹرز کی غیر قانونی پریکٹس کا انکشاف ہوا ہے۔ چاروں ہسپتالوں کے ڈاکٹرز پی ایم ڈی سی  رجسٹریشنز کی تجدید کے بغیر پریکٹس کرنے میں ملوث ہیں۔ چار سرکاری ہسپتالوں میں اہم عہدوں پر فائز ڈاکٹرز کی رجسٹریشنز زائد المیعاد نکل آئیں جبکہ شہر کے تمام ہسپتالوں کی انتظامیہ اپنے ڈاکٹرز کی رجسٹریشن سے بے خبر ہے۔

 

دستاویز کے مطابق سرکاری ہسپتالوں کے 616 ڈاکٹروں میں سے 90 ڈاکٹرز کی رجسٹریشنز زائد المیعاد ہے۔ رجسٹریشن کی تجدید نا کرانے والوں میں پولی کلینک کے ڈاکٹرز سب سے آگے ہیں۔ پولی کلینک کے 46 ڈاکٹروں نے رجسٹریشن کی تجدید نہیں کرائی۔

دوسری جانب پمز کے 33، نرم کے 6 اور ایف جی ایچ کے 5 ڈاکٹروں نے رجسٹریشنز کی تجدید نہیں کرائی۔ پولی کلینک کی میڈیکو لیگل آفیسر کی بھی رجسٹریشن مشکوک ہے۔ ڈاکٹر دردانہ کاظمی نے گزشتہ 14 سال سے رجسٹریشن کی تجدید نہیں کرائی۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر دردانہ پولی کلینک ایمرجنسی کی سربراہ ہیں۔

 

ڈاکٹر عامر مقبول نے 1995 اور عزیز الرحمان نے سن 2000 سے تجدید نہیں کرائی۔ پمز کے ڈاکٹر سجل عبد الواحد نے سال 2014 سے رجسٹریشن کی تجدید نہیں کرائی۔ پولی کلینک کے ڈاکٹر علی حسین شاکر نے گزشتہ 10 سال سے رجسٹریشن کی تجدید نہیں کرائی۔ ڈاکٹر تسنیم کوثر نے 1990 اور شاہد محمود نے 2016 سے تجدید نہیں کرائی۔ نرم کی ڈائریکٹر ڈاکٹر شائستہ حبیب اللہ نے 2009ء سےتجدید نہیں کرائی۔ ایف جی ایچ کی ڈاکٹر واسقہ حنیف نے 2014ء سے تجدید نہیں کرائی۔

 

زرائع پی ایم ڈی سی کے مطابق رجسٹریشن کی تجدید نا کرانا پی ایم ڈی ایکٹ کی خلاف ورزی ہے۔ رجسٹریشن کی تجدید نا کرانے والے ڈاکٹر کو پریکٹس کی اجازت نہیں۔ رجسٹریشن کی تجدید نا کرانے والا ڈاکٹر سرکاری اداروں میں پریکٹس نہیں کر سکتا۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں