سرگودھا یونیورسٹی میں کرپشن کی داستان کھل کر سامنے آ گئی

 

پبلک نیوز: سرگودھا یونیورسٹی میں کرپشن کی کہانی پبلک ہو گئی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق نے اپنے عزیز و اقارب کو بغیر اشتہارات گریڈ سترہ اور بیس میں نوکریاں تقسیم کیں۔ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں نیب کو بھی غلط ریکارڈ فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

 

تفصیلات کے مطابق ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں سرگودھا یونیورسٹی میں کرپشن کی داستان کھل کر سامنے آ گئی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق نے اپنے عزیز و اقارب کو بغیر اشتہارات گریڈ سترہ اور بیس میں نوکریاں تقسیم کیں۔ جونئیر کلرک بھرتی ہونے والا اظہار الحق غیرقانونی طور پر ایڈیشنل رجسٹرار بن گیا۔

رپورٹ میں ایڈیشنل رجسٹرار اظہار الحق، ایڈیشنل خزانچی محمد مقصود، ڈپٹی کنٹرولر مقصود احمد، اسسٹنٹ رجسٹرار محمد فاروق، لیکچرر طلال حسن، اسسٹنٹ لیکچرر شفیق الرحمان، اسسٹنٹ پروفیسر اعجاز اصغر، پروگرام مینیجر جاوید اقبال، اسپورٹس سپروائزر حمزہ آفتاب خان، کمپیوٹر پروگرامر محمد طاہر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر فیاض احمد، ریسرچ آفیسرز مریم گل اور فیصل صدیق، اور ڈائریکٹر اکیڈمکس محمد بشیرکی تقرری غیرقانونی قرار دی گئی۔

 

میٹرک پاس مقصود گریڈ 17 میں اسٹنٹ کنٹرولر تعینات کر دیا گیا۔ رپورٹ میں یونیورسٹی آف سرگودھا کے نمائندے اعجاز اصغر کی جانب سے نیب کو بھی غلط ریکارڈ فراہم کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

 

رپورٹ میں ان افراد کو فوری طور پر نوکری سے برخواست کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ لاہور نے ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو سرگودھا یونیورسٹی میں غیر قانونی بھرتیوں پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش کر دی گئی۔

احمد علی کیف  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں