"اب آئی ایم ایف ہمارے وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور گورنراسٹیٹ بینک طے کرے گا"

اسلام آباد (پبلک نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملکی معاشی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان کی معاشی تباہی کے دنیا پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کو ہی نہیں، آئی ایم ایف کو بھی پاکستان کی ضرورت ہے۔

 

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا پارلیمان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملکی معاشی خودمختاری پر سمجھوتہ کیا جارہا ہے۔ کیا اب آئی ایم ایف ہمارے وزیر خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور گورنراسٹیٹ بینک کو طے کرے گا؟ پاکستان کی معاشی تباہی کے دنیا پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کو ہی نہیں، آئی ایم ایف کو بھی پاکستان کی ضرورت ہے۔ جب ہمیں حکومت ملی تو پرویز مشرف خزانہ خالی کر چکا تھا۔

 

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ جب پاکستان پیپلز پارٹی آئی ایم ایف کے پاس گئی تو ہم نے عوام کی لڑائی۔ آئی ایم ایف سے ڈیل کے باوجود پی پی نے 68 لاکھ نوکریاں فراہم کیں۔ آئی ایم ایف سے ڈیل کے باوجود پی پی نے پنشن بڑھائی۔ آئی ایم ایف سے ڈیل کے باوجود پی پی نے تنخواہوں میں اضافہ کیا۔ آئی ایم ایف سے ڈیل کے باوجود پی پی نے بینظیر انکم سپورٹ جیسا فلاحی پروگرام شروع کیا۔

 

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت آئی ایم ایف کی ہر بات کو مان رہی ہے۔ آئی ایم ایف اگر ملک چلائے گا تو وہ عوام نہیں بلکہ اپنے مفاد کے لیے چلائے گا۔ آئی ایم ایف غریب عوام، مزدور اور کسان کا خیال نہیں رکھے گا۔ آئی ایم ایف کے تنخواہ دار کو اسٹیٹ بینک کا سربراہ بنانے کی کوئی قانون اجازت نہیں دیتا۔

حارث افضل  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں