رمضان شوگر مل کرپشن کیس میں شہباز شریف کے خلاف اہم انکشاف

لاہور(پبلک نیوز) سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا، رمضان شوگر مل کرپشن کیس میں 2 ملزمان نے غیر قانونی اقدامات اور کرپشن کا اعتراف کر لیا۔ عدالت نے نیب حکام کو سابق وزیراعلیٰ پنجاب کو 8نومبر کو ذاتی حثیت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

 

سابق وزیر اعلی پنجاب نے اپنے دور اقتدار میں اختیارات کا خوب فائدہ اٹھایا۔ آشیانہ اقبال، صاف پانی، پنجاب پاور کمپنی سمیت 56 کمپنیاں ہوں یا ذاتی بزنس ہر جگہ شاہی فرمان جاری کر کے قوانین کی دھجیاں اڑاتے رہے۔ نیب کا شکنجہ سخت ہوا تو سب سامنے آنے لگا۔ احتساب عدالت کے بعد ایک اور عدالت نے شہباز شریف کو ذاتی حثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

 

ضلع کچہری کی عدالت میں پبلک فنڈز رمضان شوگر ملز میں گواہان کے اعترافی بیانات قلمبند کیے جا رہے ہیں۔ نیب نے گواہان کے بیانات قلمبند کرنے کے لیے عدالت میں درخواست جمع کروائی تھی۔ عدالت نے نیب کی استدعا منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملزمان کے اعترافی گواہان کے شہبازشریف کے سامنے ریکارڈ ہوں گے۔

 

نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف نے وزیراعلٰی کے عہدہ کا ناجائز استعمال کیا اور انکی منظوری سے۔ رمضان شوگر ملز کو پبلک فنڈز دیے گئے۔ نیب نے استدعا کی کہ سردار اعتزاز نادر اورمحمود اللہ کا بیان قلمبند ریکارڈ کروانے کی اجازت دی جائے۔ عدالت نے گواہان کے بیان کے وقت شہادتوں پر جرح کے لیے شہباز شریف کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے سماعت 8 نومبر تک ملتوی کردی۔

عطاء سبحانی  1 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں