یونیورسٹی آف سرگودھا کرپشن کیس میں اہم پیش رفت

لاہور(پبلک نیوز) طلباء کا مستقبل تاریک کرنے والی یونیورسٹی آف سرگودھا کرپشن کیس، احتساب عدالت نے سرگودھا یونیورسٹی کرپشن کیس میں 3 ملزمان کی پلی بارگین درخواست منظور کر لی۔

 

طلباء کا مستقبل تاریک کرنے والی یونیورسٹی آف سرگودھا کرپشن کیس میں بڑی پیش رفت، یونیورسٹی وائس چانسلر چوہدری، اکرم، شئیر ہولڈر شنزے شفیق اور وارث ندیم نے اعتراف جرم کر لیا۔ شنزے شفیق نے 4 کڑور 76لاکھ 156 روپے کی رقم واپس کروانے کی یقین دہانی کروا دی۔

 

نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف پیش کیا کہ شنزے شفیق نے 3 اکاؤنٹس کے ذریعے رقم چیئرمین نیب کے اکاؤنٹ مین جمع کروا دی ہے۔ وارث ندیم نے 5کڑور 25لاکھ16ہزار 19روپے کی پلی بارگین کی ہے۔ وارث ندیم نیب کو 3 اقساط میں رقم واپس کروانے کی یقین دہانی کروائی ہے۔

 

وارث علی جنجوعہ نے بتایا کہ وارث ندیم نے پہلی قسط 2 کڑور13لاکھ 83 ہزار 659 جمع کروا دیے ہیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ وارث ندیم کی جانب سے 1کڑور19لاکھ999ہزار کی 2 مساوی اقساط جمع کروانے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے، جس پر وارث علی جنجوعہ کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر محمد اکرم چوہدری نے 2کڑور 18 لاکھ88ہزار 78 روپے کی پلی بارگین کی ہے۔

 

نیب تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ اکرم چوہدری نے پہلی قسط 75لاکھ روپے چیرمین نیب کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دی ہے۔ اکبر چویدری کیجانب سے بقیہ رقم 2 مساوی اقساط میں جمع کروانے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ عدالت میں پلی بارگین کرنے والے ملزمان کے تحریری بیان جمع کروا دیے گیے۔ عدالت نے ملزمان کو پبلک آفس ہولڈر اور سرکاری نوکری کے نااہل قرار دے دیا۔

عطاء سبحانی  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں