نیب کی پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کرپشن کیس میں اہم پیش رفت

لاہور(پبلک نیوز) پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کرپشن انکوائری میں سبطین خان کی گرفتاری بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہو گی۔ سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب، سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز سمیت متعدد افراد سے تفتیش کی جائے گی۔

 

پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کرپشن انکوائری میں اہم انکشافات، نیب ذرائع کے مطابق اعلیٰ سیاسی شخصیات، بیوروکریٹس اور پرائیویٹ افراد بھی نیب انکوائری میں نامزد ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن کی جانب سے ارتھ ریسورسز کو رجوعہ چنیوٹ میں لوہے کے ذخائر نکالنے سے متعلق ٹھیکے میں اہم ترین انکشافات سامنے آ گئے۔ اعلیٰ ترین سیاسی شخصیات کے ساتھ سینئر بیوروکریٹس سے بھی تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب کے دو سابق وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ساتھ ایک موجودہ اور ایک سابق چیف سیکریٹری پنجاب سے بھی تفتیش ہو گی۔

 

نیب ذرائع کے مطابق ایک سابق چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب، سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز سمیت متعدد افراد سے تفتیش کی جائے گی۔ نیب کی تفتیش میں اہم سوال کیا گیا کہ ارتھ ریسورسز میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ بغیر ٹینڈرنگ یا اشتہار اس کو ٹھیکہ دے دیا گیا، نیب کو موصول دستاویزات میں ہے کہ ارتھ ریسورسز کے پاس مائننگ سے متعلقہ کسی قسم کی ٹیکنیکل تجربہ اور متعلقہ مہارت رکھنے والا عملہ ہی موجود نہیں تھا، 16 نومبر 2007 کو صوبائی وزیر معدنیات و منرلز نے اس معاہدے سے متعلق سمری وزیراعلی پنجاب کو ارسال کی۔

 

دستاویزات کے مطابق سمری پر چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب، چیف سیکریٹری پنجاب اور سیکریٹری مائنز اینڈ منرلز کی جانب سے منظوری کے نوٹس بھی درج تھے، وزیراعلی پنجاب نے 24 نومبر کو اس سمری کی منظوری دی، وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد پنجاب منرل ڈویلپمنٹ کارپوریشن اور ارتھ ریسورسز کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ ارتھ ریسورسز کا پنجمن کے ساتھ 20اور80کی شرح کا معاہدہ کیا گیا، ارتھ ریسورسز کو 80 فیصد اور حکومتی کمپنی پنجمن کو 20 فیصد کا شراکت دار ٹھہرایاگیا، کرپشن میں نامزد تمام افراد کو طلب کر کے ان کے بیان ریکارڈ کیے جائیں گے۔ حتمی انویسٹی گیشن رپورٹ چیئرمین نیب کو ارسال کی جائے گی۔

عطاء سبحانی  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں