گھبرانے کی ضرورت نہیں، ملک بچے گا یا کرپٹ افراد، وزیر اعظم کا قوم سے خطاب

اسلام آباد(پبلک نیوز) وزیراعظم عمران خان کا قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہنا تھا کہ پاکستان کو اس وقت بے شمار چینلجز کا سامنا ہے لیکن قوم کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، میں ان سے نکلنے کا حل بتاؤں گا۔ قوم تیار ہوجائے یا تو ملک بچے گا یا کرپٹ افراد۔

وزیر اعظم کے خطاب سے قبل کلام پاک میں سے سورہ رحمن کی ابتدائی آیات تلاوت کی گئیں بعدازاں قومی ترانہ پیش کیا گیا۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو حقیقی اسلامی فلاحی ریاست بنانا میرا مقصد ہے۔ میری سیاست کا مقصد ملک کی بہتری اور اسے مدینہ جیسی فلاحی ریاست بنانا ہے۔ پاکستان اس وقت 28ہزار ارب روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔ ایک طرف قوم مقروض ہے دوسری طرف صاحب اقتدار اس ملک میں ایسے رہتے ہیں جیسے انگریز یہاں رہتے تھے جب ہم ان کے غلام تھے۔

پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنے بدترین معاشی حالات نہیں تھے۔ پچھلے 10سال میں جو قرضہ چڑھا وہ سب کے سامنے لائیں گے کہ قرضہ کہاں گیا۔ قرضوں پر سود دینے کے لیے ہم قرضے لے رہے ہیں۔ پچھلے ہر مہینے میں دو ارب ڈالر کا قرضہ لینا پڑرہا ہے۔ ملک کا اصل مسئلہ بیرون ملک کا قرضہ ہے۔ ایک طرف قرضے ہیں تو دوسری جانب انسانوں پر خرچ کا مسئلہ ہے۔کراچی کے مسائل حل کروں گا۔ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کرائیں گے۔ کراچی کو پانی دیں گے۔ نوجوانوں کو روزگار۔ ٹرانسپورٹ کے مسائل حل کریں گے۔

تعلیمی نظام مضبوط کریں گے۔ سرکاری اسکولوں کو مزید بہتر کریں گے۔ سرکاری اسکولوں میں دوسری شفٹ بھی لائیں گے۔ کے پی میں ڈیڑھ لاکھ بچے پرائیویٹ اسکولوں سے سرکاری اسکولوں میں داخل ہوئے۔پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کریں گے۔ سرمایہ کار مسائل سے آگاہ کریں، حل کریں گے۔ پاکستان میں سوئٹزرلینڈ سے زیادہ خوبصورتی ہے۔ سیاحت کا فروغ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیراعظم عمران خان کا سادگی اور کفایت شعاری سے حکومت چلانے کا اعلان۔ ان کا کہنا تھا کہ میں وزیر اعظم ہاؤس میں نہیں رہوں گا۔ وزیراعظم ہاؤس میں اعلیٰ معیار کی یونیورسٹی بناؤں گا۔ 2ملازم اور 2گاڑیاں رکھوں گا۔

وزیراعظم نے کرپشن کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپشن کی نشاندہی کرنے والے کو وصولی کا 20فیصد انعام دیں گے۔ نیب اور ایف بی آر کو مزید مؤثر بنائیں گے۔ عوام میرا ساتھ دیں۔ اب ملک بچے گا یا کرپٹ لوگ۔

5برس میں 13ہزار ارب قرض بڑھا۔ ملک پر قرض 28ہزار ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ ہر ماہ 2ارب ڈالر قرض لینا پڑ رہا ہے۔ عوام  جہاد سمجھ کر ٹیکس دیں۔ ہم عوام کے ٹیکس کی حفاظت کریں گے۔ درآمدات بڑھانے کے لیے ون ونڈو آپریشن بنائیں گے۔

وزیراعظم پاکستان کے524ملازم ہیں۔ 33بلٹ پروف سمیت 80گاڑیاں وزیراعظم کے زیراستعمال ہیں۔ ایک بلٹ پروف گاڑی کی قیمت 5کروڑ ہے۔ وزیراعظم ہاؤس 11سو کنال پر محیط۔ عمران خان نےحکومتی شاہ خرچیوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ نوازشریف نے اپنے دور میں بیرون ملک دوروں پر 65کروڑ خرچ کیے۔

عمران خان نے پنجاب پولیس کا قبلہ درست کرنے کی ٹھان لی۔ تعلیمی شعبہ ٹھیک کریں گے۔ ڈبل شفٹ کے لیے پرائیویٹ سیکٹر کو دعوت دیں گے۔ وزیراعظم نے عوام کے لیے ہیلتھ انشورنس سکیم شروع کرنے کا اعلان کیا۔ کراچی میں ٹینکرمافیا سے نجات دلانے کا بھی علان کیا۔ پانی کی قلت پر قابو پانے کے لیے الگ وزارت بنانے کا بھی اعلان کیا۔

حارث افضل  1 سال پہلے

متعلقہ خبریں