کرتارپور راہداری پر 2 اپریل کو مذاکرات سے بھارت نے انکار کر دیا

اسلام آباد(پبلک نیوز) مودی سرکار مذاکرات سے پھرفرار، بھارت کرتارپور راہداری پر 2 اپریل کو طے شدہ مذاکرات سے بھاگ گیا۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا آخری وقت پر مذاکرات منسوخ کرنا سمجھ سے بالاتر، بھارت نے ایک بار پھر ناقابل اعتبار ہمسائے ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا۔

 

پاکستان کی خطے میں دیرپا امن کوششوں اور اقدام سے بزدل بھارت روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کرنے لگے۔ پاکستان کی جانب سے سکھوں کے مذہبی عبادت گاہ کرتارپور راہداری کھولنے کا اہم اقدام بھارت کوایک آنکھ نہیں بھارہا۔ پاکستان کے ترجمان دفترخارجہ کا حالیہ وفد اٹاری میں پہنچاتھا، جہاں نئی دہلی سرکا نے کرتارپور راہداری پر مذاکرات اور تکنیکی معاملات آگے بڑھانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ پاکستان کی امن کوششوں کو بھارت نے ایک بارپھر ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے 2 اپریل کو کرتار پور راہداری پر طے شدہ اجلاس کو اچانک موخر کر دیا۔

 

بھارت نے اٹاری مذاکرات پر پاکستان سے وضاحت مانگتے ہوئے آئندہ اجلاس میں شرکت مشروط کر دی۔ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل نے تشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی جانب سے اجلاس ملتوی کرنے کے فیصلے پرافسوس ہوا۔ 14مارچ کو دونوں ممالک نے 2 اپریل کے اجلاس پر اتفاق کیا تھا اور اس ملاقات کا مقصد معاملات پر اتفاق رائے پیدا کرنا تھا۔ بھارت نے ایک بار پھر ناقابل اعتبار ہمسائے ہونے کا ثبوت فراہم کردیا ہےایسے میں مذاکرات کے آخری لحمات سےپیچھے ہٹ جانا ناقابل فہم ہے۔

ویڈیو کیلئے کلک کریں:
 

عطاء سبحانی  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں