بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی جگہ پر مندر تعمیر کرنے کا حکم دے دیا

لاہور(ادریس شیخ) بابری مسجد سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے نے ثابت کر دیا کہ بھارتی سرکار اور بھارتی عدالتیں متعصب ہندوؤں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہیں۔ آج کے فیصلے سے نہ صرف بھارت میں بسنے والے 25 کروڑ مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی بلکہ یہ اقدام نام نہاد بھارتی سیکولرازم کے منہ پر طمانچہ ہے۔

 

بھارتی سپریم کورٹ کا بابری مسجد سے متعلق فیصلہ، ممبئی کیس ہو، گودھرا کیس ہو یا کوئی اور مقدمہ، ہر کیس کا فیصلہ صرف مسلمانوں کے خلاف ہی آتا ہے، ایک بار پھر ثابت ہو گیا کہ مسلمانوں کا مستقبل اب بھی بھارت میں غیر محفوظ ہے، چاہے وہ کانگریس کی ہو یا بی جے پی کی، سیکولر ازم کا نعرہ صرف ڈھونگ ہے۔ بھارتی عدالتی فیصلے سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ بابری مسجد کی شہادت میں ہندو انتہا پسند ملوث تھے۔ متعصب ہندوؤں کے بابری مسجد کو شہید کرنے اور اس کے نتیجے میں پھوٹنے والے مسلم کش فسادات میں ہزاروں مسلمانوں کو شہید کیا گیا۔

مغل بادشاہ ظہیر الدین محمد بابر کے نام سے منسوب بابری مسجد ایودھیا میں سنہ 1528 میں مقامی فوج کے کمانڈرعبدالباقی بیگ نے تعمیر کروائی، 1885 میں فیض آباد کمشنر نے مسجد کی اراضی پر ہندوئوں کے دعوے کو مسترد کر دیا تھا، 1980 کے عشرے میں راشٹریہ سیوک سنگھ نے بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کی تحریک شروع کی اور 6 دسمبر1992 کو ایودھیا میں ہزاروں انتہا پسند ہندوؤں کے ہجوم نے بابری مسجد کو منہدم کر دیا۔

 

چھ دسمبر 1992 دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے نام نہاد دعویدار بھارت کی تاریخ کا سیاہ ترین دن تھا، بابری مسجد کی شہادت اور فسادات میں ہزاروں مسلمانوں پر قتل میں ملوث ہندو انتہا پسندوں کو سزا بھی نہیں مل سکی، بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے نے آج ثابت کر دیا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو بھارتی عدالتوں سے بھی تحفظ حاصل نہیں ہے۔

عطاء سبحانی  5 روز پہلے

متعلقہ خبریں