شریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی داغ بیل ڈالی: فواد چودھری

اسلام آباد (پبلک نیوز) وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے کہ پاکستان میں دو خاندانوں نے حکومت کی۔ 1992 میں اکنامک ریفارمز ایکٹ لایا گیا۔ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کا طریقہ متعارف کرایا۔ شریف خاندان نے حوالہ ہنڈی کے ذریعے پیسہ باہر بھجوایا۔

 

شہر اقتدار میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نے کرپشن کے لیے پورا بنک ہی خرید لیا۔ سندھ کے عوام کا پیسہ زرداری اینڈ کمپنی نے استعمال کیا۔ 1947 سے 2008 تک 37 بلین ڈالرز تھا۔ 2008 سے 2018 تک پاکستان کا قرضہ 97 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ 10 برسوں میں پاکستان کے قرضے میں 60 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔

 

وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ شریف خاندان نے ملک میں کرپشن کی داغ بیل ڈالی۔ نواز شریف 1985 میں وزیراعلیٰ بنے اور پھر وزیر اعظم۔ پاکستان میں دو خاندانوں نے حکومت کی۔ 1992 میں اکنامک ریفارمز ایکٹ لایا گیا۔ اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کا طریقہ متعارف کرایا۔ شریف خاندان نے حوالہ ہنڈی کے ذریعے پیسہ باہر بھجوایا۔ حدیبیہ پیپرز ملز کے مالک نواز شریف تھے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کو معافی مانگنے پر این آر او مل گیا۔ 5 ہزار جعلی اکاؤنٹس چلانے کے لیے 32 بڑے اکاؤنٹس بنائے گئے۔ شریف خاندان کے دیگر افراد بھی حدیبیہ پیپرز ملز کےممبرز تھے۔ شہباز شریف کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ 26 ملین ڈالر شہباز شریف کی فیملی کو منتقل ہوئے۔ نومبر میں شہباز شریف کا خاندان آہستہ آہستہ باہر جانا شروع ہو گیا۔

حارث افضل  4 روز پہلے

متعلقہ خبریں