بلاول معصوم ہیں اصل کردار آصف زرداری اور انور مجید کا ہیں: فیاض الحسن چوہان

لاہور (پبلک نیوز) وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی حکومت نے نہیں آج بھی فیصلہ سپریم کورٹ نے دیا ہے۔ ایک سو بہتر افراد میں دو افراد کے نام نکالے گئے ہیں۔ آج ادارے آزاد ہیں جو کرپشن کرے گا پکڑا جائے گا۔

 

فیاض الحسن چوہان کا پنجاب اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں جعلی اکاؤنٹ کیس میں پی پی قیادت لڈیاں ڈال رہے ہیں۔ پی پی پی قیادت سمجھ رہی ہے قلعہ فتح کرلیا ہے۔ جے آئی ٹی سپریم کورٹ نے بنائی تھی حکومت نے نہیں آج بھی فیصلہ سپریم کورٹ نے دیا ہے۔ ایک سو بہتر افراد میں دو افراد کے نام نکالے گئے ہیں۔ دو مہینے بعد منظور وسان، شیلا رضا سمیت سب کے حالات وہ ہوں گے جو مریم اونگزیب کے آج ہیں۔ آج پی پی پی نے عمران خان کے خلاف ایسے شور مچایا ہے جیسے آصف زرداری، انور مجید، فریال تالپور کو کلین چٹ مل گئی ہے۔

 

فیاض الحسن  کا کہنا تھا کہ عدالت کہہ دیا ہے کہ بلاول معصوم ہیں اصل کردار آصف زرداری اور انور مجید ہیں۔ نیب چیئرمین کو ن لیگ اور پی پی پی نے مل کر لگایا تھا تحریک انصاف نے ایک نائب قاصد تک نہیں لگایا۔ آج ادارے آزاد ہیں جو کرپشن کرے گا پکڑا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے آصف زرداری، فریال تالپور، انور مجید کے حوالے سے دو مہینے میں تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ بسنت پر حتمی فیصلہ نہیں کیا عدالت جو فیصلہ کرے گی تسلیم کیا جائے گا۔ مرکز میں فواد چوہدری اور افتخار درانی اور پنجاب میں اور شہباز گل ترجمان کا کردار ادا کررہے ہیں۔ جے آئی ٹی کے سربراہ نے ایک سو بہتر نام وزارت داخلہ کو بھیجی تھی حکومت نے نہیں۔

 

 

وزیر اطلاعات پنجاب کا کہنا تھا کہ سندھ میں وفاقی حکومت کی جانب سے کبھی گورنر راج لگانے کی بات نہیں کی۔ پھچلے چار مہینے میں ہمیں درس دیا گیا کہ حکومت کو اپوزیشن کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے ہم پر تنقید کی جاتی رہی۔ عمران خان اور میں دل سے اس کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ جس کا کیس نیب میں چلے اسے چیئرمین پی ای سی بنایا جائے۔ بحالت مجبوری کڑوی گولی نگلی گئی ہے۔ آل پاکستان لوٹ مار ایسوسی ایشن جمع ہوجائے فرق نہیں پڑتا۔

 

ان کا مزید کہنا تھا کہ فضل الرحمان پر پہلا موقع آیا ہے کہ وہ اپنی جیب سے گزارہ کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان گذشتہ چالیس سال سے مختلف سیاسی پارٹیوں میں شامل ہوجاتے تھے اور کمیٹیوں کا حصہ بن جاتے تھے۔ چیف جسٹس آف پاکستان باپ کی حیثیت رکھتے ہیں ان کا حق ہے کہ وہ کسی بھی ادارے کے سربراہ کو معلومات لے سکتے ہیں۔

حارث افضل  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں