سندھ اسمبلی اجلاس میں شديد گرما گرمی، حکومتی اور اپوزيشن ارکان ميں تلخ جملوں کا تبادلہ

کراچی (منیر ساقی) سندھ اسمبلی کے اجلاس ميں شديد گرما گرمی ہوئی۔ پی ٹی آئی، ايم کيو ايم اور جی ڈی اے نے واک آؤٹ کیا تو حکومتی اور اپوزيشن ارکان ميں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

تفصیلات کے مطابق ڈپٹی اسپيکر ريحانہ لغاری کی زير صدارت سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں گرما گرمی دیکھنے میں آئی جبکہ تلخ جملوں کا تبادلہ کیا گیا اور بعد ازاں اپوزيشن کی جانب سے واک آؤٹ بھی کیا گیا۔

وقفہ سوالات کے دوران صوبائی وزير تيمورتالپور، اپوزيشن ليڈر فردوس شميم نقوی اور خرم شير زمان کے درميان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔

خرم شير زمان نے کہا کہ صوبے ميں آئی ٹی کے کتنے ٹريننگ سينٹر ہيں، ہم سوال کچھ کرتے ہيں، جواب کچھ ہوتا ہے۔

 صوبائی وزير تيمورتالپور کا کہنا تھا کہ سی ايم ہاؤس کھانا سپلائی کرنے والوں کو پيسے ہضم نہيں ہو رہے۔ منی بيگم کے پلاٹوں پر قبضہ کرنے والے باتيں کر رہے ہيں۔

فردوس شمیم نقوی بھی وزیر تیمور تالپور کے جواب پر برہم نظر آئے۔ فردوس شمیم نقوی نے کہا کہ اگر ہمارے آباؤ اجداد کی بات کی جائے گی تو ہم بھی کریں گے۔

ڈپٹی اسپيکر ريحانہ لغاری اس دوران بے بسی کی تصوير بنی رہيں۔ صوبائی وزير کے رويہ پر احتجاجاً اپوزيشن نے واک آؤٹ کيا۔

ميڈيا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزيشن ليڈر فردوس شميم نقوی اور ايم کيو ايم کے پارليمانی ليڈر کنور نويد جميل نے ڈپٹی اسپيکر اور حکومت کو تنقيد کا نشانہ بنا ڈالا۔

اپوزيشن کے واک آؤٹ کے دوران سندھ اسمبلی نے زکوۃ و عشر ترمیبی بل متفقہ طور پر منظور کر ليا۔ ڈپٹی اسپيکر نے اسمبلی اجلاس کی کارروائی پیر تک ملتوی کر دی۔

احمد علی کیف  9 ماه پہلے

متعلقہ خبریں