نگرانی کو آئے اور ڈیرے جما لیے

یہ مثال صادق ہوتی ہے نگران وفاقی حکومت پر۔ الیکشن کروانے کی آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے بعد حکومت کی اولین ترجیح انتقال اقتدار ہونا چاہیے تھی لیکن بوجوہ یہ حکومتی ترجیحات میں کہیں بھی نظر نہیں آئی۔
اسمبلی اجلاس بلانے کے لیے جان بوجھ کر تاخیر کی گئی۔ اس تاخیر کی بنیادی وجہ اور مقصد نگران وزیر اعظم کی جانب سے یوم آزادی کی تقریب میں مہمان خصوصی بننے کی خواہش تھی۔ اس خواہش کی تکمیل میں الیکشن کمیشن نے بھی نگران حکومت کا خوب ساتھ دیا۔

ممبران کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے میں تاخیر سے حکومت سازی میں تعطل ڈالا گیا۔ بار بار گنتی کے باوجود نتائج تبدیل نہ ہوئے تو تاخیر سے نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔ الیکشن کمیشن کے الیکشن میں کردار پر چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی برہمی کا اظہار کیا۔ ان کا اپنے ریمارکیس میں کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن شاید سویا ہوا تھا۔

چیف الیکشن کمشنر کا رویہ تحریک انصاف سے متعلق شروع ہی سے سخت نظر آیا۔ غیر ملکی فنڈنگ کیس، اکبر ایس بابر کی درخواستوں اور دیگر کیسز میں بار بار طلبی، توہین کا نوٹس اور اب ووٹ راز داری کیس میں عمران خان کے خلاف اعتراض نے ان کی جانب داری ظاہر کر دی ہے۔

الیکشن سے قبل چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ان پر اعتراض اٹھایا تو اب دھاندلی کا شور کرنے والی جماعتیں اس وقت خاموش رہیں اور کوئی ردعمل ظاہر نہ کیا۔

احمد علی کیف  2 ماه پہلے

متعلقہ خبریں