معاشی صورتحال پر وفاقی کابینہ نے اپوزیشن کا احتجاج اور الزامات مسترد کر دیئے

اسلام آباد (پبلک نیوز) معاشی صورتحال پر وفاقی کابینہ نے اپوزیشن کا احتجاج اور الزامات مسترد کر دئیے۔ کابینہ میں معاملہ اٹھایا گیا کہ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں 31 ہزار ارب کے قرضے لیے گئے۔ موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے ہی ملکی قرض 100 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکا تھا۔

وفاقی کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی منظرعام پر آ گئی۔ کابینہ ارکان نے اپوزیشن کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت آنے سے پہلے ہی درآمدات و برآمدات میں 19 ارب کا شارٹ فال تھا۔ سابقہ حکومتوں نے مہنگائی اور ڈالر پر مصنوعی طریقے سے قابو رکھا۔ مہنگائی کم کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کیا گیا۔

کابینہ اراکین کی جانب سے واضح کیا گیا کہ اپوزیشن اکٹھی ہو کر احتجاج کا شوق پورا کر لے، پروا نہیں۔ لوگ جانتے ہیں کہ قوم کو مہنگائی اور معاشی مشکلات کی ذمہ دار اپوزیشن خود ہے۔

وزیراعظم عمران خان وفاقی وزیر علی محمد مہر کے انتقال پر انتہائی رنجیدہ دکھائی دیئے۔ کابینہ کے اجلاس میں ایجنڈہ پر بھی زیادہ بحث و مباحثہ کیا گیا نہ کوئی آئٹم مؤخر کیا گیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ علی محمد مہر کے انتقال کا بڑا دکھ ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے آج ملک میں یکساں ںظام تعلیم پر توجہ مرکوز کیے رکھی۔ کابینہ ملکی معاشی صورتحال پر نہ صرف بااعتماد بلکہ پر امید بھی دکھائی دی۔ کابینہ اراکین نے نئی معاشی ٹیم کے اقدامات پر اظہار اطمینان کیا۔ یونیفارم ایجوکیشن سسٹم پر کابینہ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وفاقی حکومت نے ملک میں یکساں نظام تعلیم لانے کا انقلابی فیصلہ کر لیا۔

احمد علی کیف  4 ماه پہلے

متعلقہ خبریں