پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مزدوروں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے

اسلام آباد(پبلک نیوز) پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج مزدوروں کا دن منایا جا رہا ہے، مزدور جو سب کی سنتا ہے لیکن اس کی سننے والا کوئی نہیں، یکم مئی کو ہر سال کی طرح یوم مزدور تو منایا جا رہا ہے لیکن محنت کش آج بھی روزی کمانے کا وسیلہ ڈھونڈے گا، دیہاڑی لگی تو کھائے گا ورنہ فاقہ اس کی صحت پر گراں نہیں گزرتا۔

 

آج یوم مزدور ہے، تمام سرمایا کار چھٹی پر ہوں گے۔ اسکول، دفاتر، فیکٹریاں کارخانے بند رہیں گے، مزدوری کا کوئی وسیلہ نہیں، اس لیے مزدور کے بچے آج بھوکے رہیں گے۔ بھوکے سوئیں گے جبکہ حکمران اور با اثر طبقات مزدور کے نام کی محفلیں سجائیں گے، خطابت کے تمام جوہر دکھائیں گے اور محفل کے اختتام پر بہترین سوغاتوں سے پیٹ کا جہنم بجھائیں گے کیونکہ بھوک تو صرف مزدور کا مقدر ہے۔

 

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی محنت کشوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے، جن لوگوں کے نام پر عام تعطیل کا اعلان کیا گیا وہ چھٹی کے اپنے اس بنیادی حق کے حوالے سے بھی لاعلم ہیں۔ مزدور کہتا ہے ایک مزدور کو اس کے گھر والوں کے لیے 2 وقت کی روٹی مل جائے یہ ہی کافی ہے کیونکہ حکومت کی مقرر کردہ تنخواہ نہیں ملتی۔

یکم مئی کو ہر سال شکاگو کے مزدوروں کی ہلاکت کے نام سے منسوب کر کے مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر تو منایا جاتا ہے لیکن یہ دن نہ تو مزدوروں کو حقوق دلوا سکا اور نہ ہی معاشی تحفظ فراہم کر سکا، ہر مزدور کے دل کی بس یہی فریاد ہے۔

"بوجھ کندھوں سے کم کرو صاحب"
فقط دن منانے سے کچھ نہیں ہوتا

ایک نظر مزدوروں کے عالمی دن کی تاریخ پر ڈالیں تو پتہ چلتاہے کہ 1884ء میں فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈرز اینڈ لیبر یونینز نے ایک اجلاس کا انعقاد کیا، اجلاس میں انہوں نے ایک قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کچھ مطالبے رکھے گئے، جن میں سب سے اہم مطالبہ مزدوروں کے اوقات کار کو 16 گھنٹوں سے کم کر کے 8 گھنٹے کیا جائے تھا۔ مزدوروں کی جانب سے کہنا تھا کہ 8 گھنٹے کام اور 8گھنٹے آرام کیلئے اور 8 گھنٹے ہماری مرضی کے ہو گے۔

مطالبہ یکم مئی سے لاگو کرنے کی تجویز پیش کی گئی، لیکن اس مطالبہ کو تمام قانونی راستوں سے منوانے کی کوشش ناکام ہونے کی صورت میں یکم مئی کو ہی ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ فیصلہ کیا گیا کہ جب تک مطالبات نہ مانے جائیں یہ تحریک جاری رہے گی۔ 16 گھنٹے کام کرنے والے مزدوروں میں 8 گھنٹے کام کا نعرہ بہت مقبول ہوا گیا تھا، اسی وجہ سے اپریل 1886ء تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ مزدور اس ہڑتال میں شامل ہونے کیلئے تیار ہو گئے۔

 

تحریک کا آغاز امریکا کے شہر "شگاگو" سے ہوا تھا۔ ہڑتال سے نپٹنے کیلئے جدید اسلحہ سے لیس پولیس کی بڑی تعداد شہر میں بڑھا دی گئی، پولیس کو اسلحہ اور دیگر سامان مقامی سرمایہ داروں نے مہیا کیا۔ تاریخ کا آغاز یکم مئی سے شروع ہو گیا۔ پہلے روز ہڑتال بہت کامیاب رہی، دوسرے دن یعنی 2 مئی کو بھی ہڑتال بہت کامیاب اور پرامن رہی، مگر تیسرے دن ایک فیکٹری کے اندر پولیس نے پر امن اور نہتے مزدوروں پر فائرنگ کر دی تھی، جس کی وجہ سے چار مزدورہلاک اور بہت زخمی ہو گئے۔

 

واقعہ کے خلاف اگلے ہی روز 4 مئی کو ایک بڑے اجتجاجی جلسے کا اعلان کیا گیا۔ اگلے روز جلسہ پرامن تھا لیکن آخری مقرر کے خطاب کے دوران پولیس نے اچانک فائرنگ شروع کر دی، جس میں بہت سے مزدور ہلاک اور زخمی کر دے گئے۔ پولیس نے یہ الزام لگایا کہ مظاہرین میں سے ان پر گرینیڈ سے حملہ کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ایک پولیس ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے ہیں، حملے کو بہانہ بنا کر پولیس نے گھر گھر چھاپے مارے مزدور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا، ایک جعلی مقدمے میں آٹھ مزدور رہنماؤں کو سزائے موت دے دی گئی۔

 

البرٹ پار سن 'آگسٹ اسپائز' ایڈولف فشر اور جارج اینجل کو 11 نومبر 1887ء کو پھانسی دے دی گئی۔ لوئیس لنگ نے جیل میں خود کشی کر لی اور باقی تینوں کو 1893ء میں معافی دیکر رہا کر دیا گیا۔ مئی کی اس مزدور تحریک نے آنے والے دنوں میں طبقاتی جدوجہد کے متعلق شعور میں انتہائی اضافہ کیا کر دیا۔ ایک نوجوان لڑکی ایما گولڈ نے کہا کہ یکم مئی 1886ء کے واقعات کے بعد میں محسوس کرتی ہوں کہ میرے سیاسی شعور کی پیدائش اس واقعے کے بعد ہو ئی ہے۔

 

البرٹ پا رسن کی بیوہ لوسی پارسن کا کہنا تھا کہ دنیا کے غریبوں کو چاہیے کہ اپنی نفرت کو ان طبقوں کی طرف موڑ دیں، جو ان کی غربت کے ذمہ دار ہیں، یعنی سرمایہ دار طبقہ، جب مزدوروں پر فائرنگ ہو رہی تھی تو ایک مزدور نے اپنا سفید جھنڈا ایک زخمی مزدور کے خون میں سرخ کر کے ہوا میں لہرا دیا، اس کے بعد مزدور تحریک کا جھنڈا ہمیشہ سرخ رہا۔ سال 1889ء میں ریمنڈ لیوین کی تجویز پر یکم مئی 1890ء کو یوم مئی کے طور پر منانے کا اعلان کیا گیا، اس دن کے حوالے سے منعقد تقریبات بہت کامیاب رہیں، اس کے بعد یہ دن "عالمی یوم مزدور" کے طور پر منایا جانے لگا۔

عطاء سبحانی  5 ماه پہلے

متعلقہ خبریں