پارلیمنٹ ہاؤس میں سوئی ناردرن کے انجینئر کی تعیناتی معمہ بن گئی

کون لایا، کس نے لگایا، کس کو جواب دہ ہیں، پارلیمنٹ ہاؤس میں سوئی ناردرن کے انجینئر کی تعیناتی معمہ بن گئی۔ ن لیگ کے دور سے تعینات انجینئر شاہد شوکت نہ تو ڈیپوٹیشن پر ہیں اور نہ ہی کسی کو جوابدہ۔

ذرائع کے مطابق انجنئیر شاہد شوکت کی تقرری کا کوئی سرکاری ریکارڈ پارلیمنٹ سیکرٹریٹ میں نہیں۔ پارلیمنٹ ہاؤس سولر منصوبہ کے انچارج کی حیثیت سے کام کرنے والے انجینئر شاہد شوکت نے ایل ای ڈی بلبز اور چلرز منصوبے بھی مکمل کیے۔

سی ڈی اے ذرائع کے مطابق واٹر فلٹریشن اور پارکنگ شیڈ کا منصوبہ بھی ایس این جی پی ایل کے انجینئر شاہد شوکت کو سونپا گیا۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی نئی لفٹس لگانے اور مرمت کا کام بھی ان ہی سے کروایا گیا۔

قومی اسمبلی کے فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ذرائع سے معلوم ہوا کہ شاہد شوکت کو تنخواہ ایس این جی پی ایل کے اکاﺅنٹ سے دی جاتی ہے۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی کے کہنے پر شاہد شوکت کو پارلیمنٹ ہاؤس میں415اے نمبر کمرہ بطور آفس دیا گیا۔

تاہم سابق سپیکر کے شاہد شوکت کے حوالے سے کوئی تحریری احکامات نہیں ہیں۔ قومی اسمبلی کی تزئین اور آرائش کے علاوہ مرمت کے کام سی ڈی اے کے ذمہ ہیں لیکن یہ شاہد شوکت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ شاہد شوکت سیکرٹریٹ کے انتظامی معاملات اور سی ڈی اے سے متعلقہ امور میں بھی مداخلت کرتے ہیں۔

پبلک نیوز کے استفسار پر شاہد شوکت نے جواب دیا کہ کسی کو جواب دہ نہیں ہوں، آپ ڈائریکٹر میڈیا سے رابطہ کریں۔ ڈائریکٹر میڈیا نے بھی تعیناتی سے لاعلمی کا اظہار کر دیا۔ ایڈمن برانچ بھی کسی قسم کی دستاویز کی موجودگی سے انکاری ہے۔

احمد علی کیف  4 ہفتے پہلے

متعلقہ خبریں