کرپشن کی ایک اور کہانی، آئی ٹی کی کمپنی کو لاہور پارکنگ کا ٹھیکہ دیا گیا

لاہور (پبلک نیوز) پنجاب میں کرپشن کی ایک اور بڑی کہانی، لاہور پارکنگ کمپنی میں کرپشن سے متعلق رپورٹ پبلک نیوز نے حاصل کر لی۔

سابق حکومت کا ایک اور کرپشن اسکینڈل بے نقاب ہو گیا۔ لاہور پارکنگ کمپنی کرپشن اسکینڈل میں سابق چیئرمین ن لیگی رہنما میاں نعمان، سابق سی ای او تاثیر احمد اور سابق ایم ڈی عثمان قیوم کو کرپشن کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ نیب کی انکوائری کے مطابق لاہور پارکنگ کمپنی کے افسران نے جعلی دستاویزات پیش کرنے والی کمپنی کو ٹھیکہ دیا۔

قصہ کچھ یوں ہے کہ لاہور پارکنگ کمپنی نے اے جی سی این نامی کمپنی کو پارکنگ کا ٹھیکہ دیا۔ اے جی سی این نے اپنی وابستگی دبئی کی ایک کمپنی گرین پارکنگ سے ظاہر کی۔ گرین پارکنگ دبئی میں پارکنگ کے منسلک کاروبار کا بڑا نام ہے۔ نیب کی تحقیقات میں پتا چلا کہ گرین کمپنی کا اے جی سی این سے کوئی تعلق نہیں۔ یہاں ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اے جی سی این کا پارکنگ کا کوئی تجربہ نہیں بلکہ یہ ایک آئی ٹی کی کمپنی ہے اور یہ ٹھیکہ انہوں نے اپنی گرین کمپنی سے جعلی وابستگی ظاہر کر کے حاصل کیا۔

اس کے علاوہ ایک اور اہم بات اے جی سی این کمپنی کو نا صرف لاہور میں 33 پارکنگ سائٹس فراہم کی گئیں بلکہ ٹھیکہ بھی انتہائی نرم شرائط پر دیا گیا۔ نیب کے مطابق اے جی سی این کو جرمانے اور منافع کے معاملے میں غیر قانونی طور پر نوازا گیا۔ لاہور پارکنگ کمپنی کرپشن اسکینڈل میں درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

حارث افضل  1 ماه پہلے

متعلقہ خبریں