اپوزیشن جماعتیں بجٹ کے بعد حکومت کیخلاف کیا کرنے جا رہی ہیں؟

 

اسلام آباد (پبلک نیوز) قومی اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اہم اور تاریخی اجلاس ہوا جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور ارکان قومی اسمبلی کی آراء و مشاورت کی روشنی میں وفاقی بجٹ کے حوالے سے اصولی فیصلے کیے گئے۔

 

اجلاس میں مکمل اتفاق رائے پایا گیا کہ موجودہ حکومت جو جائز عوامی و جمہوری اور دستوری مینڈیٹ سے محروم ہے، نے قومی اور عوامی مفادات کو عالمی مالیاتی اداروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ملکی معیشت آئی ایم ایف کے سپرد کردی گئی ہے اور عوامی مفادات کے تحفظ کے بجائے موجودہ مینڈیٹ چور حکومت نے بجٹ کی تیاری بھی آئی ایم ایف کے حوالے کردی ہے۔

 

اجلاس نے مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی سے جڑی معیشت اور اہم معاشی ومالیاتی اداروں کو آئی ایم ایف کے حوالے کرنا قومی خودمختاری، سلامتی اور عوامی مفادات پر ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہے۔ عوام دشمن بجٹ منظور نہیں کیاجائے گا اوراس کے خلاف عوامی امنگوں، خواہشات اور احساسات کی بھرپور ترجمانی کی جائے گی۔

 

اجلاس نے واضح کیا کہ عوام دشمن بجٹ کے خلاف پارلیمان کے اندر اور باہر مزاحمت کی جائے گی اور احتجاج کے تمام ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔ عوام دوست بجٹ پیش کیاجائے۔ مشترکہ اپوزیشن یہ تاریخی پشکش حکومت کو کررہی ہے کہ اگر عوام دوست بجٹ پیش کیاگیا تو ہم اسے خود منظور کرائیں گے۔

 

اجلاس میں مطالبہ کیاگیا کہ اسپیکر قومی اسمبلی وزیراعظم اور حکمران جماعت کے سپیکر بننے اور ان کے ہاتھوں یرغمال بننے کے بجائے دستور اور پارلیمان کے تقاضوں کے تحت اپنی آئینی و جمہوری اور پارلیمانی ذمہ داریاں پوری کریں اور قومی اسمبلی کے گرفتار ہونے والے سابق صدر اور نواب شاہ سے رکن قومی اسمبلی جناب آصف علی زرداری، خواجہ سعد رفیق، محسن داوڑ اور علی وزیر سمیت تمام ارکان کے 'پروڈکشن آرڈرز' حسب ضابطہ وحسب روایت فی الفور جاری کریں اور ان تمام گرفتار ارکان کی ایوان میں حاضری کو یقینی بنایا جائے۔

 

اجلاس نے واضح کیا کہ اس وقت نواب شاہ، لاہور، شمالی و جنوبی وزیرستان کے عوام کی نمائندگی ایوان میں نہیں ہو رہی جو جمہوری روح اور قواعد کے منافی ہے۔ اجلاس نے زوردیا کہ وفاق اور صوبوں کی سطح پر ایسے تمام ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈرز جاری کرکے متعلقہ ارکان کے عوام کی نمائندگی کو یقینی بنایا جائے۔

 

مشترکہ اجلاس نے ملک میں آئینی، قانونی، بنیادی انسانی اور معاشی حقوق کی صورتحال پر گہری تشویش اور فکر مندی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ملک کی تاریخ میں اس نوع کی قدغنیں اور جکڑبندیاں پہلے دیکھنے میں نہیں آئیں۔ ایک طرف عدلیہ پر حملہ کیا جارہا ہے تو دوسری جانب عوام کے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہے۔

 

مشترکہ اپوزیشن نے واضح کیا کہ اطلاعات کی ترسیل میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں اور میڈیا سمیت جمہوری نظام کی تمام آزاد سوچ، جمہوریت اور دستور دوست آوازوں کو خاموش کرانے کے لئے دباؤ اور جبر کے آمرانہ ہتھکنڈوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔

 

اجلاس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دستور، قانون اور جمہوریت کے مطابق عوام کے حقوق اور شہری آزادیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور دباؤ کے تمام ہتھکنڈوں کا بھرپور مقابلہ کیاجائے گا اور یہ حقوق کسی کو سلب نہیں کرنے دیں گے۔

 

اجلاس نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے معاشی حقوق کا تحفظ اپوزیشن جماعتوں کی بنیادی ذمہ داری ہے جسے پوری ایمانداری، قومی جذبہ اور عوام سے مکمل وابستگی کے عہد کے ساتھ انجام دیا جائے گا۔ فیصلہ کیا گیا کہ عوام دشمن بجٹ کو ہر سطح پر شکست دینے کے لئے جو بھی ضروری اقدامات ہوں، انہیں عمل میں لایا جائے گا۔

 

اجلاس میں کل جماعتی کانفرنس (اے پی سی) کے کنوینر مولانا فضل الرحمن سے گزارش کی گئی کہ وہ ملک وقوم کو درپیش سنگین صورتحال اور ان کے دستوری، سیاسی، قانونی، معاشی وسماجی بنیادی حقوق پر تاریخ کے بدترین حملہ کے پیش نظر جلد از جلد اے پی سی کے انعقاد کی تاریخ کا اعلان کریں تاکہ ملک وقوم کے بنیادی قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور ان سنگین ترین حالات سے ملک کو نکالنے کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔

 

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ احتساب کے عمل کی حمایت کرتے ہیں لیکن سیاسی مخالفین کے خلاف ایک خاص ایجنڈہ کے تحت ہونے والی دباﺅ کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ گرفتار ہونے والے قائدین اور کارکنان سے یک جہتی کا اظہارکرتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ عدالتیں انصاف اور قانون کے تقاضے پورے کریں گے اور جھوٹ اور حقائق کو الگ کریں گی۔

 

اجلاس نے میڈیا کے ساتھ بھی یک جہتی کا اظہارکیا اور یقین دلایا کہ ملک میں دستور اور قانون کے تحت اظہار رائے کی آزادی کے بنیادی اور لازمی جمہوری حق کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا اور اس جدوجہد میں ماضی کی شاندار روایت کے مطابق کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں رکھا جائے گا۔

 

اجلاس سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف، پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری، جمعیت علماء اسلام (ف) کے مولانا عبدالواسع، عوامی نیشنل پارٹی کے امیر حیدر خان ہوتی اور عثمان کاکڑ نے خطاب کیا۔

احمد علی کیف  3 ماه پہلے

متعلقہ خبریں