آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں شہباز شریف کے پیش نہ ہونے پر جج کا اظہارِ برہمی

لاہور(پبلک نیوز) احتساب عدالت میں آشیانہ اسکینڈل کی سماعت ہوئی، شہباز شریف کو پیش نہ کرنے پر جج برہم ہو گئے۔ جج صاحب نے کہا کہ اسلام آباد میں میٹنگز کرسکتے ہیں یہاں پیش نہیں ہوسکتے؟ اب کوئی معذرت قبول نہیں ہو گی، احتساب عدالت نے اگلی سماعت پر شہباز شریف کو ہر صورت پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

احتساب عدالت لاہور میں آشیانہ اقبال ہاؤسنگ اسکیم اسکینڈل کے کیس کی سماعت ہوئی، جج سید نجم الحسن نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے پیش نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا، جیل حکام کی جانب سے درخواست جمع کرائی گئی کہ پی اے سی اجلاس کے باعث شہباز شریف اسلام آباد میں ہیں۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ شہباز شریف پیش کیوں نہیں ہوئے، صحت کا مسئلہ ہے یا پی اے سی اجلاس میں ہیں؟

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ شہباز شریف کو میڈیکل کی سہولت اس لیے نہیں دی کہ وہ عدالت میں پیش ہی نہ ہوں۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایسے تو کیس نہیں چل سکتا، آج آشیانہ اسکینڈل میں فرد جرم عائد ہونی تھی۔ شہباز شریف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہبازشریف کو ریڑھ کی ہڈی کا مسئلہ ہے، لمبا سفر نہیں کر سکتے۔

جج نے ریمارکس دیئے کہ شہباز شریف وہاں میٹنگ کر سکتے ہیں تو یہاں پیش کیوں نہیں ہو سکتے؟ رپورٹ کے مطابق شہباز شریف ٹھیک ہو رہے تھے، لگتا ہے بستر پر پڑے پڑے بیمار ہو گئے۔ جج نجم الحسن نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پر شہباز شریف ہر صورت پیش ہوں اگر وہ سفر نہیں کر سکتے تو ائر ایمبولینس کا انتطام کر لیں۔

جج نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ پیش نہ ہوئے تو پھر اوپر حکم دوں گا پیشی کا۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ رمضان شوگر ملز کا ریفرنس ابھی تک فائل کیون نہیں ہوا؟ پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ ریفرنس منظوری کے لیے چیئرمین نیب کو بھجوا دیا گیا ہے۔ جج نجم الحسن نے ریمارکس دیئے کہ سات روز کی مہلت دے رہے ہیں۔ نیب نے ریفرنس لے کر آنا ہے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 18 فروری تک ملتوی کر دی۔

عطاء سبحانی  6 ماه پہلے

متعلقہ خبریں